اسوہء انسانِ کامل — Page 161
اسوہ انسان کامل 161 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں پوری ہو جاتی کہ اُسی سال مسلمان طواف کر بھی لیتے تو وہ فوائد و برکات حاصل نہ ہوتیں جو صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں عطا ہوئی ہیں اور جسے قرآن شریف میں فتح مبین قرار دیا گیا۔( بخاری )14 ہجرت مدینہ کی رؤیا بھی اسی قسم کی تھی جس کی درست تعبیر بعد میں ظاہر ہوئی۔نبی کریم کو اپنی ہجرت کی جگہ دکھائی گئی کہ کوئی کھجوروں والی جگہ ہے۔آپ نے اُس سے یمامہ یا حجر کی سرزمین مراد لی۔مگر بعد میں کھلا کہ اس سے میٹر ب یعنی 66 15 مدينة الرسول مراد تھا۔( بخاری )5 رویا میں دارالہجرت کے نام کے اخفاء میں یقیناً گہری حکمت پوشیدہ تھی کہ ہجرت کے سفر میں کوئی روک یا خطرہ حائل نہ ہو۔4- رویا پوری ہونے پر اُس کی تعبیر کا کھلتا بعض رؤیا ایسی بھی ہوتی ہیں جن کی تعبیر رویا کے وقت واضح نہیں ہوتی مگر بعد میں رویا کے پورا ہونے پر سمجھ آتی ہے۔جس کی ایک حکمت یہ ہوتی ہے کہ اُس واقعہ یا حادثہ کے ظہور کے بعد رویا میں مضمر منشاء الہی معلوم کر کے انسان کو اطمینان حاصل ہو۔جیسے غزوۂ احد سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں دیکھا کہ آپ کچھ گائیوں کو ذبح کر رہے ہیں۔اسی طرح دیکھا کہ آپ آپنی تلوار لہراتے ہیں اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ جاتا ہے۔رؤیا کے وقت اس کی تعبیر واضح نہ تھی ،مگر بعد میں اس کشف کی تعبیر اُحد میں ستر مسلمانوں کی شہادت کی عظیم قربانی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے اور دندان مبارک شہید ہونے کے رنگ میں ظاہر ہو گئی اس وقت گھلا کہ اس رؤیا کا کیا مطلب تھا۔( بخاری )16 5- پیش گوئی کا جانشین یا اولاد کے حق میں پورا ہونا بعض رؤیا کی تعبیر بعد میں آنے والوں مثلاً نبیوں کے خلفاء، اُن کے ماننے والوں یا صاحب رؤیا کی اولاد کے حق میں ظاہر ہوتی ہے۔ایک نہایت اہم اور غیر معمولی شان کا حامل لطیف کشف وہ ہے جس کا نظارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب کے اس ہولناک ابتلاء میں کروایا گیا جب اہل مدینہ ایک طرف کفار مکہ کے امکانی حملہ سے بچنے کی خاطر شہر کے گرد خندق کھود رہے تھے۔دوسری طرف اندرونی طور پر وہ سخت قحط سالی کا شکار تھے اور جیسا کہ حضرت جابر کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ خندق کی کھدائی میں مصروف تھے۔مسلسل تین دن سے فاقہ میں تھے خود آنحضرت نے بھوک کی شدت سے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔(بخاری) 17 حضرت براء بن عازب اس واقعہ کی مزید تفصیل بیان کرتے ہیں کہ خندق کی کھدائی کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پتھریلی چٹان کے نہ ٹوٹنے کی شکایت کی گئی۔آپ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی پہلی ضرب لگائی تو پھر شکستہ