اسوہء انسانِ کامل — Page 162
اسوہ انسان کامل 162 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں ہو گیا اور اس کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ گرا۔آپ نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا کہ ملک شام کی کنجیاں میرے حوالے کی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! میں شام کے سرخ محلات اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں۔پھر آپ نے اللہ کا نام لے کر کدال کی دوسری ضرب لگائی پتھر کا ایک اور حصہ شکستہ ہو کر ٹوٹا اور رسول کریم نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا مجھے ایران کی چابیاں عطا کی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! میں مدائن اور اس کے سفید محلات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔پھر آپ نے اللہ کا نام لیکر تیسری ضرب لگائی اور باقی پتھر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔آپ نے تیسری بار اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر کے فرمایا! ” یمن کی چابیاں میرے سپرد کی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں صنعاء کے محلات کا نظارہ اس جگہ سے کر رہا ہوں۔( احمد ) 18 ی عظیم الشان روحانی کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے زبر دست ایمان و یقین پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ایک طرف فاقہ کشی کے اس عالم میں جب دشمن کے حملے کے خطرے سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔خود حفاظت کے لئے خندق کھودنے کی دفاعی تدبیروں میں مصروف ہیں۔انہی وعدوں پر کیسا پختہ ایمان ہے کہ اپنے دور کی دو عظیم طاقتور سلطنتوں کی فتح کی خبر کمزور نہتے مسلمانوں کو دے رہے ہیں اور وہ بھی اس یقین پر قائم نعرہ ہائے تکبیر بلند کر رہے ہیں کہ بظاہر یہ انہونی باتیں ایک دن پوری ہو کر رہیں گی۔پھر خدا کی شان دیکھو کہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت سے ان فتوحات کا آغاز ہو جاتا ہے۔حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابوعبیدہ اسلامی فوجوں کے ساتھ شام کو فتح کرتے ہیں اور حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں ان فتوحات کی تکمیل ہو جاتی ہے اور حضرت سعد بن ابی وقاص کی سرکردگی میں مسلمان ایران کو فتح کرتے ہیں اور صرف چند سال کے مختصر عرصہ میں دنیا کی دو بڑی سلطنتیں روم اور ایران ان فاقہ کش مگر یقین محکم رکھنے والے مسلمانوں کے زیر نگیں ہو جاتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کون فتوحات کے روشن نظارے اس تفصیل کے ساتھ کرائے گئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حریم بن اوس کے بیان کے مطابق حیرہ کی فتح کے بارہ میں رسول کریم کا کشف جس شان کے ساتھ پورا ہوا وہ حیرت انگیز ہے۔رسول کریم نے فرمایا ”حیرہ کے سفید محلات میرے سامنے لائے گئے اور میں نے دیکھا کہ اس کی ( شہزادی ) شیماء بنت نفیله از دیه ایک سرخ خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی سے نقاب اوڑھے ہوئے ہے۔تحریم نے غالباً اس پیشگوئی کی مزید پختگی کی خاطر عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر ہم حیرہ میں یوں فاتحانہ داخل ہوئے اور ان کی شہزادی شیماء کو ایسا ہی پایا جیسا کہ حضور نے بیان فرمایا ہے تو کیا وہ شہزادی میری ملکیت ہوگی؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ تمہاری ہوئی۔اب دیکھیں اس پیشگوئی میں حیرہ کی فتح کے ساتھ شیماء اور خریم کے زندہ رہنے کی پیشگوئی بھی شامل ہے۔خریم کہتے ہیں کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جب ہم نے حیرہ فتح کیا تو بعینہ وہی نظارہ ہم نے دیکھا جو رسول اللہ نے بیان فرمایا تھا کہ شیماء خچر پر سوار سیاہ اوڑھنی کا نقاب کئے آرہی تھی۔میں اس کی خچر سے چمٹ گیا اور کہا کہ رسول اللہ نے یہ مجھے صبہ فرما دی تھی۔سالار فوج خالد بن ولید نے مجھے بلوایا اور میرے دعوی کی دلیل طلب کی۔میں نے محمد بن مسلمہ اور محمد بن بشیر انصاری کو بطور گواہ پیش کیا اور شیماء میرے حوالے کر دی گئی۔اس کا بھائی عبد ا مسیح صلح کی غرض سے