اسوہء انسانِ کامل — Page 153
اسوہ انسان کامل 153 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں مخبر صادق کے رویا وکشوف اور پیشگوئیاں خواب انسان کی باطنی کیفیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لینے کے لئے آپ کے رویا و کشوف کا مضمون بھی بہت اہم ہے۔دوسرے رویا و کشوف کے ذریعہ خوش خبریوں کا عطا ہونا اور خدا کا بندے سے کلام کرنا محبت الہی کی نشانی ہے۔تیسرے جن رؤیا وکشوف کا تعلق آئندہ زمانے سے ہو ان کا کثرت سے ہو بہو پورا ہو جانا صاحب کشف والہام انسان کی سچائی کا نشان ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے متعلق فرماتا ہے۔وہ غیب کا جاننے والا ہے پس وہ کسی کو اپنے غیب پر غلبہ عطا نہیں کرتا بجز اپنے برگزیدہ رسول کے۔( سورۃ الجن : 27) اس اظہار غیب کا ذریعہ وحی والہام اور رؤیا وکشوف ہی ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ فرمایا اور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی پیغام رساں بھیجے جو اُس کے اذن سے جو وہ چاہے وحی کرے۔یقینا وہ بہت بلندشان (اور) حکمت والا ہے۔“ (سورۃ الشوریٰ: 52) رؤیا وکشوف کے بارہ میں قرآن شریف سے یہ اصول بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض پیش گوئیاں انبیاء کی زندگی میں پوری ہو جاتی ہیں اور بعض وفات کے بعد۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر ہم تجھے اُن انذاری وعدوں میں سے کچھ دکھادیں جو ہم ان سے کرتے ہیں یا تجھے وفات دے دیں تو ( ہر صورت ) تیرا کام صرف کھول کھول کر پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے۔(سورۃ الرعد : 41) سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو "بشیر و نذیر کے لقب سے بھی نوازا گیا ہے۔آپ کو قرآن شریف میں بیان فرمودہ بشارات اور تنبیہات کی تفاصیل رویا و کشوف کے ذریعے عطا فرمائی گئیں اور امت محمدیہ میں قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کی خبریں عطا کی گئیں۔ایک دفعہ نماز کسوف کے دوران ہونے والے کشفی نظارہ کے بارہ میں آپ نے فرمایا ”مجھے ابھی اس جگہ آئندہ کے وہ تمام نظارے کروائے گئے جن کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے“ یہاں تک کہ جنت و دوزخ کی کیفیات بھی دکھائی گئیں۔اس واضح اور جلی کشف میں بعض نعماء جنت اپنے سامنے دیکھ کر آپ آنہیں لینے کے لئے آگے بڑھے اور جہنم کی شدت و تمازت کا نظارہ کر کے پیچھے ہٹے۔( بخاری )1 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان رؤیا و کشوف کی مختلف انواع و کیفیات اور واقعات میں سے بطور نمونہ کچھ کا ذکر اس جگہ کیا جاتا ہے۔