اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 117 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 117

اسوہ انسان کامل 117 رسول کریم کی قرآن کریم سے گہری محبت اور عشق یعنی (اے رسول) تو کبھی کسی خاص کیفیت میں نہیں ہوتا اور اس کیفیت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرتا۔اسی طرح تم (اے مومنو! ) کوئی (اچھا) عمل نہیں کرتے مگر ہم تم پر گواہ ہوتے ہیں۔جب تم اس کام میں مصروف ہوتے ہو۔اللہ تعالیٰ کومحمد کی تلاوت قرآن پر اس لئے بھی پیار آتا تھا کہ آپ ایک عجب جذب، سوز و گداز اور عشق و محبت کے ساتھ اس پاک کلام کی تلاوت کرتے تھے۔آپ کی تلاوت کی وہی عظمت اور شان تھی جو قرآن میں یوں بیان ہوئی الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُو نَه حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُوْلَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِه (البقره: 122) یعنی جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جیسے تلاوت کا حق ہے۔یہی لوگ ہیں جو اس کتاب پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔رسول کریم اس حکم الہی کے مطابق خوبصورت لحن اور ترتیل کے ساتھ ایسی تلاوت کرتے تھے کہ تلاوت کا حق ادا ہو جاتا تھا۔حضرت انس سے پوچھا گیا کہ رسول کریم کی تلاوت کیسی ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا آپ لمبی تلاوت کرتے تھے۔پھر انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر سنائی۔اسے لمبا کیا پھر الرحمان کو لمبا کر کے پڑھا پھر الرحیم کو۔( احمد )4 حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی چیز کو کان لگا کر توجہ سے نہیں سنتا جتنا نبی کریم کی تلاوت قرآن کو سنتا ہے۔جب وہ خوبصورت لحن اور غنا کے ساتھ بآواز بلند اس کی تلاوت کرتے ہیں۔(احمد )5 حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم تلاوت کرتے ہوئے آیت پر وقف کرتے تھے۔فاتحہ میں ہر آیت پر رُکتے رب العالمین پر پھر الرحمان الرحیم پر رُک رُک کر تلاوت کرتے تھے۔(احمد) 6 رسول کریم تلاوت کرتے ہوئے ایک ایک لفظ واضح اور جدا کر کے پڑھتے۔سوز و گداز میں ڈوبی ہوئی یہ آواز کبھی بلند ہو جاتی اور کبھی دھیمی۔کسی نے رسول اللہ سے پوچھا کہ بہترین تلاوت کونسی ہے؟ فرمایا جس کو سن کر آپ کو احساس ہو کہ یہ شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔یعنی خشیت الہی سے لبریز تلاوت اور یہ تلاوت آپ کی ہی ہوتی تھی۔رسول کریم کا تو اوڑھنا بچھونا ہی قرآن تھا۔دن بھر گا ہے بگا ہے اور خصوصاً نمازوں میں نازل ہونے والی تازہ قرآنی وحی کی تکرار اور دہرائی کا اہتمام تو ہوتا ہی تھا۔عموماً رات کو بھی زبان پر قرآن ہی ہوتا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں۔کبھی رات کو اچانک آنکھ کھل جاتی تو زبان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کی آیات جاری ہوتیں۔وَمَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا اللَّهُ الوَاحِدُ القَهَّارُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالارْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ (ص:67) یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ صاحب جبروت ہے نیز آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا رب ہے اور غالب اور بخشنے والا ہے۔(حاکم) 7 آپ رات کو تیسرے پہر تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو اُٹھتے ہی سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرماتے۔ان آیات کا مضمون خالق کا ئنات کی تخلیق ارض و سماء اور اس میں موجود نشانات پر غور وفکر سے تعلق رکھتا ہے۔