اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 111 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 111

اسوہ انسان کامل 111 ذکر الہی اور حمد وشکر میں اسوہ رسول الا كُلِّ شَيْءٍ مَاخَلَا اللَّهَ بَاطِل کہ سنو! اللہ کے سوا ہر چیز بالآخر فنا ہو نیوالی ہے۔( بخاری ) 31 پس کچی بات تو یہ ہے کہ رسول اللہ سے بڑھ کر آج تک اللہ کی کوئی حمد کر نیوالا پیدا نہیں ہوا۔اسی لئے تو الہی نوشتوں میں آپ کا نام احمد رکھا گیا تھا کہ سب سے بڑھ کر خدا کی حمد کر نیوالا۔اسی حمد باری کے صدقے آپ محمد کہلائے اور آپ کی دنیا بھر میں تعریف ہوئی۔جذبہ شکر اور قدردانی دراصل شکر ایک جذبہ ہے جو احسان کے نتیجہ میں ایک قدردان دل کے اندر پیدا ہوتا ہے۔انسان میں اس جذبہ کا ہونا اللہ کی سچی حمد اور شکر ادا کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ جولوگوں کے احسانوں کا شکر نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔(ترمذی 32) کیونکہ اسے شکر کی نیک عادت ہی نہیں یا یہ جذ بہ سرد پڑ چکا ہے۔آنحضرت ﷺ نے شکریہ ادا کرنے کا طریق بھی اپنی امت کو سمجھایا۔حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ”جس شخص سے کوئی نیکی کی جائے تو وہ اس نیکی کرنے والے سے یہ کہے جَزَاكَ اللهُ خَيْراً کہ اللہ تعالیٰ تجھے بہترین جزا دے تو اس شخص نے تعریف کا حق ادا کر دیا۔“ ( ترندی 3 آپ نے فرمایا کہ ”جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کا بدلہ دو اور اس کی طاقت نہیں تو اس کے لئے دعا کیا کرو اتنی دعا کہ تم جان لو کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ اُتار دیا ہے۔(ابوداؤد ) 34 انسانوں کا شکر 33 ہمارے نبی حضرت محمد یہ تو بدی کا بدلہ بھی نیکی سے دینے کے عادی تھے۔۔آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو کوئی تحفہ دیا جائے تو چاہیے کہ اس کا بدلہ دے اگر اس کی توفیق نہ ہو تو اس کی تعریف ہی کرے جس نے اس کی تعریف کی اس نے اس کا شکر کیا۔اور جس نے شکرانے کا اظہار نہ کیا اس نے ناقدری نے اس اور نے کیا اس نے کی۔( ابوداؤد ) 35 جہاں تک نیکی کے بدلہ کا تعلق ہے رسول کریم قرآن شریف کی اس آیت پر بھی خوب عمل کرتے تھے مَن يُعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْر أَيْرَه۔( سورۃ زلزال : 8) یعنی جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی اس کا بدلہ بھی پائے گا۔بلکہ بعض دفعہ بظاہر معمولی نیکی کا غیر معمولی بدلہ عطا فرماتے۔ایک دفعہ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو آپ کے کم سن چازاد بھائی عبداللہ بن عباس نے وضو کے لئے پانی بھر کر رکھ دیا۔آپ نے آکر پوچھا کہ یہ کس نے رکھا ہے اور پھر معلوم ہونے پر حضرت عبد اللہ بن عباس کے لئے یہ دعا کی کہ اے اللہ ان کو قرآن اور حکمت سکھا۔‘ ( بخاری 36 ) اور ان کو