اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 108 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 108

اسوہ انسان کامل رات کا شکر ادا کیا۔(ابوداؤد ) 15 108 ذکر الہی اور حمد و شکر میں اسوہ رسول رسول کریم جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اللہ کی حمد بجالاتے۔( ترمذی ) 16 موسم گرما میں جب کچھ عرصہ کے بعد بارش ہوتی تو شکر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر خدا کے حضور جھک۔آپ اپنے سر سے کپڑا وغیرہ ہٹا کہ ننگے سر پر بارش لیتے اور فرماتے یہ میرے رب سے تازہ تازہ آئی ہے۔( احمد ) 17 جب آپ کی دعا بارگاہ الہی میں قبولیت کا درجہ پاتی یا کوئی نیک کام انجام کو پہنچتا تو کسی فخر کی بجائے اللہ کی حمد بجالاتے اور کہتے ” تمام تعریف اس خدا کی ہے جس کے جلال و عظمت سے ہی نیک کام انجام کو پہنچتے ہیں۔“ ( حاکم ) 18 ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ اپنے یہودی غلام کی عیادت کو گئے اس کا آخری وقت دیکھ کر اسے کلمہ پڑھنے کو کہا۔جب اس نے پڑھ لیا تو بے اختیار آپ کی زبان پر یوں حمد باری جاری ہوئی کہ اس خدا کی سب تعریف ہے جس نے ایک روح کو آگ سے بچالیا۔( بخاری )19 سجدات شکر الله کوئی خوشی کی خبر آتی تو رسول کریم فور أخدا کے حضور سجدہ میں گر جاتے اور سجدہ تشکر بجالاتے۔(خطیب وابوداؤد )20 حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت کے کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس لوٹ رہے تھے۔جب ہم عز وراء مقام پر پہنچے وہاں حضور اترے۔آپ نے ہاتھ اٹھائے اور کچھ وقت دعا کی۔پھر حضور سجدے میں گر گئے۔خاصی دیر سجدے میں رہے۔پھر کھڑے ہوئے اور ہاتھ اُٹھا کر دعا کی۔پھر سجدے میں گر گئے۔آپ نے تین دفعہ ایسے کیا۔پھر آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے دعا مانگی اور اپنی امت کیلئے شفاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے میری امت کی ایک تہائی کی شفاعت کی اجازت دی۔میں اپنے رب کا شکرانہ بجالانے کیلئے سجدے میں گر گیا اور سر اُٹھا کر پھر اپنے رب سے امت کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے مزید ایک تہائی اپنی امت کی شفاعت کیلئے اجازت مرحمت فرمائی۔میں پھر شکرانے کا سجدہ بجالایا۔پھر سر اٹھایا اور امت کیلئے اپنے رب سے دعا کی تب اللہ تعالیٰ نے میری امت کی تیسری تہائی کی بھی شفاعت کے لئے مجھے اجازت عطا فرما دی اور میں اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجالانے کے لئے گر گیا۔(ابوداؤد ) 21 حضرت عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم مسجد میں تشریف لائے اور قبلہ رو ہو کر سجدے میں گر گئے اور بہت لمباسجدہ کیا۔یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے شاید آپ کی روح قبض کرلی ہے۔میں آپ کے قریب ہوا تو آپ اُٹھ بیٹھے اور پوچھا کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبدالرحمن۔فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح تو قبض نہیں کر لی۔آپ نے فرمایا