اسوہء انسانِ کامل — Page 101
101 نبی کریم کی خشیت اور خوف الہی اسوہ انسان کامل حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ رسول کریم ﷺ کی کوئی بہت پیاری اور خوبصورت ہی بات سنائیں۔حضرت عائشہ نے فرمایا ان کی تو ہر ادا ہی پیاری تھی۔ایک رات میرے ہاں باری تھی۔آپ تشریف لائے اور میرے ساتھ بستر میں داخل ہوئے۔آپ کا بدن میرے بدن سے چھونے لگا۔پھر فرمانے لگے اے عائشہ! کیا آج کی رات مجھے اپنے رب کی عبادت میں گزارنے کی اجازت دو گی۔میں نے کہا مجھے تو آپ کی خواہش عزیز ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں پھر آپ آٹھے، مشکیزہ سے وضو کیا، اور نماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھنے لگے۔پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کا دامن آنسوؤں سے تر ہو گیا۔پھر آپ نے دائیں پہلو سے ٹیک لگائی۔دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر کچھ توقف کیا۔پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے فرشِ زمین بھیگ گیا۔صبح بلال نماز کی اطلاع کرنے آئے تو آپ کو روتے پایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ سبھی روتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپ کو بخش دیا۔فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔پھر فرمانے لگے میں کیوں نہ روؤں جبکہ آج رات مجھ پر یہ آیات اتری ہیں إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔آپ نے آل عمران کے آخری رکوع کی یہ آیات پڑھیں اور فرمایا ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس نے یہ آیات پڑھیں اور ان پر غور نہ کیا۔(سیوطی ) 32 عہد نبوی میں ایک دفعہ سورج گرہن ہوا۔رسول اللہ نماز کسوف پڑھنے کیلئے کھڑے ہوئے۔بڑے لمبے رکوع اور سجدے کئے۔آپ اس قدر روتے جاتے تھے کہ ہچکی بندھ گئی۔اس حال میں رورو کر یہ دعا کر رہے تھے۔”میرے رب ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا کہ جب تک میں ان لوگوں میں ہوں تو انہیں عذاب نہ دے گا۔کیا تو نے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے تو ان پر عذاب نازل نہ کرے گا۔پس ہم استغفار کرتے ہیں۔( تو ہمیں معاف فرما )۔(سیوطی ) 33 رسول کریم اس وقت تک یہ دعا کرتے رہے جب تک سورج گرہن ختم نہ ہو گیا۔خشیت کی اس کیفیت کے باوجو د رسول کریم ﷺ کی خدا ترسی کا یہ عالم تھا کہ اپنے مولیٰ کے حضور مناجات میں اس کا تقویٰ اور خشیت مانگا کرتے۔کبھی کہتے ”اے اللہ میرے نفس کو اپنا خوف اور تقویٰ نصیب کر دے اور اسے پاک کر دے۔تجھ سے بڑھ کر کون اسے پاک کر سکتا ہے؟ تو ہی اس کا دوست اور آتا ہے۔( مسلم ) 34 کبھی یہ دعا کرتے ”اے اللہ اپنی وہ خشیت ہمیں عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے۔(ترمذی) 35 تلاوت قرآن اور خشیت الہی للہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے۔جب ان پر رحمان خدا کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے