اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 655 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 655

اسوہ انسان کامل 655 نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی Roman world and found numerous votaries۔The fatal fault of many of these creeds was that in many respects they were so ignoble۔۔۔When Christianity conquered Caesarism at the commencement of the fourth century, it, in its turn, became Casarised۔No longer was it the pure creed which had been taught some three centuries before۔It had become largely de-spiritualized, ritualized, materialized۔۔۔۔How, in a few years all this was changed, how, by 650AD a great part of this world become a different world from what it had been before, is one of the most remarkable chapters in human history۔۔۔This wonderful change followed, if it was not mainly caused by, the life of one man, the Prophet of Mecca۔۔۔Whatever the opinion one may have of this extraordinary man۔۔۔۔There can be no difference as to the immensity of the effect which his life has had on the history of the world۔To those of us, to whom the man is everything, the milieu but little, he is the supreme instance of what can be done by one man۔"(25) ترجمہ: ” کھلے لفظوں میں ( کہا جائے تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) زمانہ کے عظیم انسان تھے۔آپ کی حیران کن کامیابی کے لئے ہمیں لازماً ان کے حالات زمانہ کو مجھنا چاہئے۔حضرت عیسی کی پیدائش کے ساڑھے پانچ سوسال بعد آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔اس زمانہ میں یونان ، روم اور بحیرہ عرب کی ایک سو ایک ریاستوں کے تمام قدیم مذاہب اپنی افادیت کھو چکے تھے۔اس کی جگہ رومن حکومت کا دبدبہ ایک زندہ حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔اور شنہشاہ قیصر روم کے مطابق حکومت وقت کی پرستش اور اطاعت گویا رومی حکومت کا مذہب بن چکا تھا۔یہ بجا کہ دیگر مذاہب بھی موجود تھے۔مگر وہ اپنے مذہب کے باوجود اس نئے عوامی روش کے پابند ہو چکے تھے۔لیکن شہنشاہیت روما دنیا کو سکون نہ دے سکی۔چنانچہ مشرقی مذاہب اور مصر، شام اور ایران کی تو ہم پرستی نے رومی سلطنت میں نفوذ شروع کیا اور مذہبی لوگوں کی اکثریت کو زیر اثر کر لیا۔ان تمام مذاہب کی مہلک خرابی یہ تھی کہ وہ کئی پہلوؤں سے قابل شرم حد تک گر چکے تھے۔عیسائیت جس نے چوتھی صدی میں سلطنت روما کو فتح کیا تھا، رومن اقتدار اپنا چکی تھی۔اب عیسائیت وہ خالص فرقہ نہ رہا تھا جس کی تعلیم اسے تین صدیاں قبل دی گئی تھی۔وہ سراسر غیر روحانی تمول پسند اور مادیت زدہ ہو چکی