اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 615 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 615

اسوہ انسان کامل 615 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد یمن سے آیا۔پہلے تو رسول اللہ نے ان کے سردار عبداللہ بن عوف کو دیکھ کر فرمایا کہ تم میں دو باتیں ایسی ہیں جو اللہ پسند فرماتا ہے ایک علم دوسرے ٹھہراؤ۔پھر آپ نے ان کے ایک شخص جارود سے اس کے بعض سوالات کا از خود ذکر فرمایا جن کے پوچھنے سے وہ جھجک رہا تھا۔ان علاقوں میں شراب وغیرہ کا بہت رواج تھا آپ نے ان سے شرابوں کی اقسام کے بارہ میں پوچھا اور پانچ بنیادی ارکان اسلام کی تعلیم کے ساتھ ان کے حالات کے موافق بعض چیزوں کی ممانعت فرمائی۔خاص طور پر ان میں رائج ، روغنی گھڑے ، کدو کے برتن ، لکڑی کے برتن اور تارکول ملے برتنوں میں نبیذ یعنی کھجور کے رس کے لئے استعمال کرنے سے منع فرمایا۔کیونکہ اس سے بھی نشہ پیدا ہو جاتا تھا۔انہوں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ کو نبیذ برتنوں کے بارہ میں کیا علم ہے۔؟ فرمایا ہاں! یہ ایک تنا ہوتا ہے جسے تم کھرچ ڈالتے ہو۔پھر اس میں ایک قسم کی کھجور قطیع یا خشک کھجور ڈالتے ہو۔پھر اس پر پانی ڈالتے ہو۔جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو اسے پیتے ہو۔(مسلم ) 30 ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے علاقے کی آب و ہوا مختلف ہے اگر ہم یہ مشروبات نہ پیئیں تو ہمارے پیٹ پھول جائیں گے۔اسلئے ہمارے لئے کچھ رعایت فرما ئیں۔یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہتھیلیاں بلند کر کے اشارے سے بتایا کہ اگر میں تمہیں اتنی سی رعایت دوں تو تم اتنی پیو گے یعنی رعایت سے کئی گنا فائدہ اُٹھاؤ گے۔(ابوداؤد )31 نیز فرمایا اگر اس فقیر میں کھجور بھگو کر پیو گے تو تم ایک دوسرے پر تلوار لے کر چڑھ دوڑو گے اور کسی کی تلوار دوسرے کو اس طرح لگے گی کہ وہ ہمیشہ کے لئے لنگڑا ہو جائے گا۔اس پر وہ لوگ ہنس پڑے آپ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کیا ہم نے واقعی ایک دفع فقیر میں بھگو کر بی پی تھی جس کے نتیجہ میں بعض لوگ ایک دوسرے پر تلوار سونت کر چڑھ دوڑے اور اس شخص کو ایک آدمی نے تلوار مار دی جس سے یہ لنگڑا ہو گیا جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔پھر رسول اللہ نے ان کے علاقے میں پائی جانے والی کھجور کی قسمیں گنوائیں ، اور انہیں مخالف آب و ہوا کا علاج بھی بتایا کہ تم فلاں کھجور کھایا کرو۔تمہارے علاقہ کی بہترین کھجور برنی ہے جو بیماریوں کو دور کرنے والی ہے اور خود اس میں کوئی بیماری نہیں۔جاتے وقت آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو مدینہ کی پیلو کی مسواکیں دیں جو ان کو بہت پسند تھیں اور وہ اپنے علاقے میں یہی استعمال کرتے تھے۔(سیرت الحلبیہ (32 بنوتمیم کا وقد آیا با وجود یکہ اس قبیلہ کی فخر و کبر کی عادت آپ کو پسند نہ تھی پھر بھی آپ نے ان مہمانوں کا ہر طرح لحاظ رکھا۔ان کے ساتھ ان کا سردار قیس بن عاصم بھی تھا جو اپنے کمال حلم کی وجہ سے مشہور تھا۔رسول اللہ کی فراست نے اسے دیکھتے ہی پہچان کر فرمایا یہ بادیہ نشینوں کا سردار ہے۔(سیرت الحلبیہ ( 33 یہ لوگ فصاحت و بلاغت کے رسیا اور فخر و مباہات کے عادی تھے۔انہوں نے ادب رسول کا لحاظ کئے بغیر مفاخرانہ انداز اپناتے ہوئے اپنے خطیب و شاعر کے ذریعہ قبائلی فضائل بیان کرنا چاہے رسول کریم نے انہیں اس کی اجازت دے کر پھر اپنے خطیب اور شاعر کو کھڑا کیا۔جس سے ان کے سردار بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اسلام قبول کر لیا۔اور رسول اللہ نے انہیں انعامات سے