اسوہء انسانِ کامل — Page 608
اسوہ انسان کامل 608 آنحضرت ﷺ کی خداداد فر است و بصیرت میثرب میں اسلام کو ایک مرکز میسر آیا تو رسول اللہ نے مسلمانوں کو مکہ سے وہاں ہجرت کی اجازت عطا فرما دی اور مسلمان قافلے میثرب پہنچنے لگے۔باوجود یکہ سب سے زیادہ خطرہ مکہ میں حضور کی ذات کو تھا۔مگر آپ نے سب سے آخر میں اس وقت ہجرت کی جب مکہ میں بیمار کمزور یا مجبور ومحبوس کے سوا کوئی باقی نہ رہ گیا۔اس دوران حضرت ابو بکر نے آپ سے اجازت ہجرت چاہی تو آپ نے کمال دور اندیشی سے انہیں انتظار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ آپ کا ساتھی پیدا کر دے اور پھر جونہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوئی تو خود دو پہر کے وقت آپ نے حضرت ابو بکر کے گھر جا کر اطلاع دی۔دریں اثناء حضرت ابو بکڑا اپنے خادم رہنمائے سفر سواریوں و زاد راہ سمیت تیار ہو گئے۔دوبارہ رات کے وقت حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹانے کے بعد آپ مشرکین کے محاصرہ سے نکل کر حضرت ابوبکر کے گھر پہنچے اور تاریکی میں ان کے بڑے دروازے کی بجائے گھر کی عقبی کھڑکی سے نکل کر غار ثور کو روانہ ہو گئے۔الغرض ہجرت مدینہ کے سفر میں قدم قدم پر دعاؤں کے ساتھ حضور کی یہ تدابیر بھی بہت کارگر ثابت ہوئیں۔(ابن سعد )19 پھر ہجرت کے سفر میں رسول اللہ نے جو راستہ اختیار فرمایا اس میں بھی انتہائی احتیاط اور بصیرت سے کام لیا کیونکہ آپ کی گرفتاری کے عوض سو اونٹوں کے انعام کے لالچ میں کئی لوگ تعاقب میں تھے۔آپ کبھی ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ اس حکمت عملی سے چلے کہ عام راستہ کے متوازی رہ کر سیدھا جانے کی بجائے اس راستہ کو عبور کر کے کبھی دائیں اور کبھی بائیں نکل جاتے۔یوں آپ کا یہ سفر مخفی رہا کہ سوائے ایک تعاقب کرنے والے کے کوئی آپ کا سراغ نہ پاسکا۔ہجرت کے بعد حضرت عباس کو مکہ میں رکھنے کی حکمت عملی رسول اللہ نے انتہائی بصیرت سے اپنے چچا حضرت عباس کو جو آغاز میں ہی اسلام قبول کر چکے تھے، ملکہ کی مخالفت میں اپنا اسلام مخفی رکھنے اور ہجرت کے وقت پیچھے مکہ ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی تا کہ بنو ہاشم کے سپر د بیت اللہ کے حاجیوں کو پانی پلانے اور قیام امن کی بابرکت خدمت سے یہ خاندان محروم نہ ہو۔ان کی دوسری اہم ذمہ داری ہجرت مدینہ کے بعد مکہ کے حالات سے رسول اللہ کو مطلع رکھنا تھا۔چنانچہ حضرت عباس آپ کو سب احوال لکھ کر بھجوا دیتے تھے۔حضرت عباس کے مکہ ٹھہرنے کا تیسرا فائدہ پیچھے رہ جانے والے کمزور مسلمانوں کی مخفی امداد تھی۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی حضرت عباس نے رسول اللہ سے مدینہ آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں ارشاد فرمایا کہ آپ کا مکہ میں ٹھہر نا ہی جہاد ہے۔بعد میں غزوہ بدر، احد وغیرہ کے موقع پر حضرت عباس کی بر وقت اطلاعات کا مسلمانوں کو بہت فائدہ ہوا۔(ابن سعد )20 ہجرت کے بعد مدینہ میں بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔آپ نے کمال حکمت سے مؤاخات کے نظام کے ذریعہ مہاجرین اور انصار مدینہ کو بھائی بھائی بنا کر مسلمانوں کی ایک تنظیم کردی اور نہایت حکمت سے قرعہ اندازی کے ذریعہ ہر گھر میں دس مہاجرین کے لئے فوری بندوبست فرمایا۔انصار مدینہ نے ان سے حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر سلوک کیا۔( احمد )21 علاوہ ازیں نئی جگہ مہاجرین کے لئے رہائش اور کھانے کے انتظام کے علاوہ ان کی تعلیم وتربیت اور انہیں لکھنا، پڑھنا