اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 47 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 47

اسوہ انسان کامل 47 شمائل نبوی علی قرآن شریف میں رسول کریم کی شخصیت ، آپ کے لباس، حقوق العباد کی نازک ذمہ داریوں، بے پناہ روز مرہ مصروفیات ، انقطاع الی اللہ ،عبادات، ذکر الہی، تبلیغ اور پاکیزہ اخلاق ، سچائی، راستبازی، استقامت، رافت و رحمت، عفو کرم وغیرہ کے واضح اشارے ملتے ہیں اور احادیث نبویہ میں ان اخلاق فاضلہ کی تفاصیل موجود ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پرکشش شخصیت کا عکس آپ کے خوبصورت اور پرکشش چہرہ سے خوب نمایاں تھا، جس کے ہزاروں فدائی اور عاشق پیدا ہوئے۔بلاشبہ آپ کا بھرا بھرا، کھلتے ہوئے سفید رنگ کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوتا تھا، شرافت وعظمت کا نور اس پر برستا تھا اور بشاشت و مسکراہٹ اس پاکیزہ چہرہ کی رونق تھی۔آپ کا سر بڑا تھا اور بال گھنے۔ریش مبارک گھنی تھی ، ناک پکی کھڑی ہوئی، کالی خوبصورت آنکھیں اور رخسار نرم و ملائم تھے۔دہانہ کشادہ، دانت فاصلے دار اور سفید موتیوں کی طرح چمکدار تھے۔گردن لمبی ، سینہ فراخ ، بدن چھر میرا اور پیٹ سینہ کے برابر تھا۔قد درمیانہ اور متناسب تھا۔پشت مبارک پر کندھوں کے درمیان کبوتری کے انڈے کے برابر سُرخ رنگ کا گوشت کا ایک ٹکڑا اُبھرا ہوا تھا جو مہر نبوت سے موسوم ہے اور جس کا ذکر قدیم نوشتوں میں رسول اللہ کی شناخت کی ایک جسمانی نشانی کے طور پر موجود ہے۔(ترمدی ) 3 روزمرہ معمولات کہتے ہیں کسر کی شاہ ایران نے اپنے ایام کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ جس دن بادِ بہار چلے وہ سونے اور آرام کے لئے مقرر ہوتا تھا ، ابر آلود موسم شکار کیلئے مختص تھا، برسات کے دن رنگ و طرب اور شراب کی محفلیں سجتی تھیں۔جب مطلع صاف اور دن روشن ہوتا تو در بارشاہی لگایا جاتا اور عوام و خواص کو اذن باریابی ہوتا۔تو یہ ان اہل دنیا کا حال ہے جو آخرت سے غافل ہیں۔ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفے نے ہر حال میں عسر ہو یا ئیسر اپنے دن کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔دن کا ایک حصہ عبادت الہی کیلئے ، ایک حصہ اہل خانہ کے لئے اور ایک حصہ اپنی ذاتی ضروریات کیلئے مقرر تھا۔پھر اپنی ذات کیلئے مقرر وقت میں سے بھی ایک بڑا حصہ بنی نوع انسان کی خدمت میں صرف ہوتا تھا۔( عیاض)4 دعوی نبوت کے بعد رسول کریم ﷺ کی 23 سالہ زندگی میں سے 13 سالہ مکی دور نزول قرآن، تبلیغی جد وجہد، اسلام قبول کرنے والوں کی تعلیم و تربیت اور ابتلاء ومصائب کا ایک ہنگامی دور تھا۔اس کے دور معمولات کی تفصیلات اس طرح نہیں ملتیں جس طرح دس سالہ مدنی دور کے معمولات روز و شب کی تفاصیل احادیث میں ملتی ہیں اور جن سے مکی دور کی بھر پور مصروفیات کا ایک اندازہ کیا جاسکتا ہے۔احادیث کے مطابق آپ روزانہ اپنی مصروفیات کا آغاز نماز تہجد سے فرماتے تھے۔نماز سے قبل وضو کرتے ہوئے مسواک استعمال فرماتے اور منہ اچھی طرح صاف کرتے۔نہایت خوبصورت اور لمبی نماز تہجد ادا کرتے جس میں قرآن