اسوہء انسانِ کامل — Page 46
اسوہ انسان کامل 46 شمائل نبوی شمائل نبوی علا الله شمائل نبوی میں اپنے آقا و مطاع حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان پاکیزہ عادات واطوار کا ایک نقشہ پیش کرنا مقصود ہے جن کے بارہ میں قرآن شریف کی یہ گواہی ہے کہ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ یعنی آپ عظیم الشان اخلاق پر فائز تھے۔(سورۃ القلم :5) اس آسمانی شہادت سے بہتر آپ کے اخلاق کی تصویر کشی کون کر سکتا ہے؟ رسول اللہ کی رفیقہء حیات حضرت عائشہ کی یہ شہادت ہے کہ اللہ کی رضا کے تابع آپ کے سب کام ہوتے تھے اور جس کام سے خدا ناراض ہو، آپ اس سے دور رہتے تھے۔( حکیم ترندی) 1 حضرت یزید بن بابنوس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ سے عرض کیا اے ام المؤمنین ! رسول اللہ کے اخلاق کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ کے اخلاق قرآن تھے۔پھر فرمانے لگیں تمہیں سورۃ المؤمنون یا د ہے تو سناؤ۔حضرت یزید نے اس سورت کی پہلی دس آیات کی تلاوت کی جو قد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ سے شروع ہوتی ہیں اور جن میں یہ ذکر ہے کہ وہ مومن کا میاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں عاجزی اختیار کرتے ہیں۔وہ لغو چیزوں سے پر ہیز کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں۔وہ اپنے تمام سوراخوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے یا جن کے مالک ان کے داہنے ہاتھ ہوئے کہ ان پر کوئی ملامت نہیں۔اور جو اس کے علاوہ چاہے وہ لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔اور وہ جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔حضرت عائشہ نے ان آیات کی تلاوت سن کر فرمایا کہ یہ تھے رسول اللہ کے اخلاق فاضلہ۔( حاکم )2 الغرض حضرت عائشہ کی چشم دید شہادت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم کے اخلاق قرآن تھے۔جس کا یہ مطلب ہے کہ اوّل۔قرآن شریف میں بیان فرمودہ تمام اخلاق اور مومنوں کی جملہ صفات کی تصویر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔چنانچہ قرآن کی اخلاقی تعلیم پر عمل کر کے آپ نے ایسا حسین عملی نمونہ پیش کیا جسے قرآن کریم نے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔(سورۃ الاحزاب : 22) دوم۔قرآن نے جو حکم دیئے وہ سب آپ نے پورے کر دکھائے۔گویا آپ چلتے پھرتے مجسم قرآن تھے۔آئیے ان دونوں پہلوؤں سے شمائل نبوی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔