اسوہء انسانِ کامل — Page 584
اسوہ انسان کامل 584 ہمارے مطہر رسول کی طہارت و پاکیزگی ہمارے مطہر رسول کی طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقره: 223) اللہ تعالیٰ تو بہ کر نیوالوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاکیزگی کو نصف ایمان قرار دیا۔(مسلم ) 1 ایمان جس طرح باطنی طہارت اور تقویٰ کا متقاضی ہے اسی طرح ظاہری پاکیزگی اور صفائی کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔چنانچہ نماز کے لئے وضو کو ضروری قرار دیا جس سے قریباً آدھا غسل ہو جاتا ہے اور فرمایا کہ اسکے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔(ترندی) 2 وضو کی برکت سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔پس جس طرح چھال کا کسی پھل کے مغز کی حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح ظاہری صفائی باطنی طہارت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ظاہری جسمانی حالتوں کا روح پر بہت اثر ہوتا ہے۔وضو کے نتیجہ میں پیدا ہو نیوالی نشاط نماز کی توجہ اور خشوع و خضوع کے لئے نہایت مفید ہے۔اس لئے ہر نماز کے وقت باوضو ہونے کے باوجود دوبارہ وضو تازہ کرنے کو باعث ثواب قرار دیا گیا بلکہ نُورٌ عَلیٰ نُور کہا گیا ہے۔آداب خلاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کے آداب بھی سکھائے۔حضرت سلمان فارسی کو ایک دفعہ کسی یہودی نے از راه استہزاء طعنہ دیا کہ تمہارا نبی کیسا ہے؟ تمہیں پیشاب پاخانہ کے آداب سکھاتا پھرتا ہے۔حضرت سلمان نے اسی بات کو ایک دوسرے انداز میں فخریہ طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہاں رسول اللہ نے ہمیں یہ سب آداب سکھائے ہیں کہ ہم قضائے حاجت کے وقت دایاں ہاتھ صفائی کیلئے استعمال نہ کریں، ہڈی یا گوبر سے استخانہ کریں اور صفائی کیلئے کم از کم تین ڈھیلے استعمال کریں۔( ترمذی )3 صفائی کے لئے نبی کریم پانی استعمال کرنا زیادہ پسند فرماتے۔آپ نے پاکیزگی اور طہارت کے آداب سکھاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ پیشاب کرتے ہوئے اس کے چھینٹوں وغیرہ سے بچنا چاہیے اور اس کے لئے بہت سخت تنبیہ فرمائی۔ایک دفعہ قبرستان سے گزرتے ہوئے فرمایا کہ فلاں قبر والے کو اس لئے عذاب دیا جارہا ہے کہ وہ پیشاب کرتے وقت کپڑے چھینٹوں وغیرہ سے نہیں بچاتا تھا۔( بخاری )4 حضرت عائشہ فرماتی تھیں کہ رسول کریم استنجاء کے وقت تین مرتبہ پانی استعمال فرماتے تھے۔استنجاء سے فارغ