اسوہء انسانِ کامل — Page 554
اسوہ انسان کامل 554 رسول اللہ کی حیرت انگیز تواضع میں سے جو چاہے اختیار کرے۔“ ( احمد ) 3 رسول کریم نے ایک متکبر اور دولت کے غلام شخص کے بالمقابل ایک منکسر المزاج مجاہد راہ مولیٰ کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔فرمایا ”دینار کا بندہ ، درہم کا بندہ اور خوبصورت لباس کا بندہ ہلاک ہو گیا۔جسے کچھ دے دیا جائے تو راضی۔نہ دیا جائے تو ناراض۔ایسا شخص ہلاک ہو کر سر کے بل گرا۔اسے کانٹا بھی چھے تو وہ اسے نکالنے کی طاقت نہیں رکھتا۔مبارک ہو ایک ایسے منکسر المزاج کو جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے بال پراگندہ ہیں اور پاؤں غبار آلود۔اگر حفاظت میں اس کی ڈیوٹی لگا دو تو وہ اس میں ہی لگارہے گا۔اگر اُسے لشکر کے پیچھے کہیں ڈیوٹی دے دو تو وہاں رہے گا اور غیر معروف ایسا کہ وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اجازت نہ ملے اور کہیں سفارش کرے تو سفارش قبول نہ ہو۔“ ( بخاری )4 رسول کریم کا انکسار رسول کریم کے انکسار کا یہ عالم تھا کہ عروہ بن زبیر کے بیان کے مطابق جب آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور قبا پہنچے تو مسلمان آپ کے استقبال کے لئے حاضر ہوئے حضرت ابوبکر لوگوں کے سامنے کھڑے تھے اور رسول کریم تشریف فرما تھے انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ کو نہیں دیکھا تھا، حضرت ابوبکر کو آکر سلام عرض کرنے لگے۔یہاں تک کہ تھوڑی دیر کے بعد جب رسول اللہ پر دھوپ پڑنے لگی اور حضرت ابو بکر نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کیا تو لوگوں کو رسول اللہ کا تعارف ہوا۔( بخاری )5 دنیا کے لوگ ترقی کر کے اپنا ماضی کتنا جلدی فراموش کر بیٹھتے ہیں مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عجیب شان تھی ایک دن فر مایا کہ اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے بکریاں چرائی ہیں۔صحابہ نے تعجب سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے بھی ؟ فرمایا ہاں میں بھی اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط کے معاوضہ پر چرا تا رہا ہوں۔( بخاری ) 6 الغرض نزول وحی کا پہلا واقعہ ہی نبی کریم کی منکسرانہ طبیعت پر نہایت عمدہ روشنی ڈالتا ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ انکسار سے آپ کا دل معمور تھا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد اصلاح خلق کا کام کیا جانے لگا اور حضرت جبریل نے کہا اقا ( آپ پڑھیے ) تو خدا کے جلال پر نظر کرتے ہوئے ، اپنی لیاقت بھول کر ، آپ نے انکساری سے فرمایا مَا أَنَا بِقَارِی کہ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔نبوت ملنے سے بھی پہلے اپنی کمزوری کا یہ اقرار دراصل وہ اعلیٰ درجہ کا انکسار تھا جو آپ کے مزاج کا حصہ اور فطرتِ ثانیہ تھا بجائے اس کے کہ آپ خوشی سے اچھل کر چل پڑتے اور لوگوں میں فخریہ بیان کرتے پھرتے کہ یہ عظیم الشان کام میرے سپرد ہوا ہے۔آپ نے انکسار کا وہ رنگ اختیار کیا جو کبھی کسی انسان نے اس سے پہلے اختیار نہ کیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ یہ انکسار دیکھ کر حامل وحی فرشتہ کا دل اُس کامل منکسر المزاج انسان کی محبت کے جوش سے بھر گیا اور اُس نے بے اختیار آپ کو گلے لگا کر اپنے ساتھ چمٹا لیا۔