اسوہء انسانِ کامل — Page 551
اسوہ انسان کامل 551 رسول اللہ کی بے نظیر شجاعت چودہ سوصحابہ کو ہمراہ لے کر پر امن طور پر طواف بیت اللہ کا قصد لئے نکلے، مگر اہل مکہ نے حدیبیہ مقام پر روک لیا اور اس شرط پر مصالحت ہونے لگی کہ مسلمان اگلے سال آکر عمرہ کر لیں۔قصد بیت اللہ سے کسی کو روکنے کا شاید یہ پہلا موقع تھا، جوطواف بیت اللہ کے لئے بے چین مسلمانوں کے لئے ایک بھاری صدمہ سے کم نہیں تھا۔وہ چاہتے تو بز در شمشیر بھی مکہ میں داخل ہو کر طواف کر سکتے تھے مگر امن کے شہزادے کی موجودگی میں یہ ممکن نہ تھا، یہی وجہ تھی کہ جب رسول اللہ نے شرائط صلح حدیبیہ قبول فرماتے ہوئے مسلمانوں کو حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کر دینے کا ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ کے جاں نثاروں کو اس دکھ اور صدمہ کی حالت میں کچھ ہوش نہ رہا۔ابو بکر و عمر ، عثمان و علی جیسے بزرگ صحابہ سمیت کسی کو بھی یہ جرات اور حوصلہ نہ ہوا کہ آگے بڑھ کر اس حکم کی فوری تعمیل کرتے ہوئے اپنی قربانی ذبح کر دیں ، وہ ساکت و جامد اور مبہوت کھڑے دیکھتے تھے۔شاید وہ طواف بیت اللہ کی امید کی آخری کرن کے منتظر تھے۔اس صدمہ کی حالت میں سب بہادروں کا ایک بہادر خدا کا یہ رسول تھا جو اپنے ان صحابہ کے آگے بھی لڑ رہا تھا ور پیچھے بھی ، دائیں بھی لڑ رہا تھا اور بائیں بھی۔اس وقت آپ کو ہی یہ ہمت اور حوصلہ نصیب ہوا کہ اللہ کے حکم کے مطابق پہل کرتے ہوئے اپنی قربانی میدان حدیبیہ میں ذبح کر ڈالی۔پھر کیا تھا آپ کے غلام دیوانہ وار اپنی قربانیوں کی طرف لپکے اور دھڑا دھڑ میدان حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کرنے اور سرمنڈوانے لگے۔اس نظارے نے حدیبیہ کی سرزمین کو حرم بنا دیا۔یوں رسول اللہ کے عالی حوصلہ نے اپنے صحابہ کی ہمتیں جمع کر کے حوصلے بڑھا دیئے اور یہ آپ کی شان اول المسلمین ہے جو ہر اہم موڑ اور نازک مرحلے پر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر اور روشن نظر آتی ہے۔( بخاری ) 12 غزوہ حنین کے موقع پر بنو ہوازن نے اچانک حملہ کر دیا، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔صرف چند لوگ رسول اللہ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔رسول اللہ کے چچازاد ابو سفیان بن حارث اور حضرت عباس آپ کے ساتھ رہ گئے۔عباس کہتے ہیں کہ میں آپ کے خچر کی لگام پکڑ کر اسے دشمن کی طرف بڑھنے سے روک رہا تھا، مگر رسول خدا تھے کہ دشمن کی طرف آگے بڑھنے کیلئے بے تاب خچر کو مسلسل ایٹر لگا رہے تھے۔چا زادا بوسفیان بن حارث نے آپ کی خچر کی رکاب پکڑا رکھی تھی۔چاروں طرف سے تیروں کی بارش تھی مگر رسول اللہ محیر العقول بہادری کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے اور یہ نعرہ زبان پر تھا۔أنا النبى لا كذب انا بن عبدالمطلب میں نبی ہوں۔یہ جھوٹ نہیں ہے اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔رسول اللہ نے فرمایا اے عباس! انصار و مہاجرین کو بلاؤ ، اور حدیبیہ میں موت پر بیعت کرنے والے اصحاب شجرہ کو بھی آواز دو۔مسلمان اس آواز پر مردانہ وار لپک کر میدان میں واپس لوٹے۔جن کی سواریاں بد کی ہوئیں تھیں ، انہوں نے سواریوں سے چھلانگیں لگا دیں اور پیدل تلوار میں لے کر میدان کی طرف بھاگے۔ایسا بلا کا رن پڑا کہ رسول اللہ نے بھی فرمایا اب میدان جنگ خوب گرم ہوا ہے، اس وقت آپ نے کفار کی طرف کنکروں کی ایک مٹھی پھینکی اور فرمایا