اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 526 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 526

526 رسول کریم کا عدیم المثال عفو و کرم اسوہ انسان کامل ہمارے محسن آقا ومولا نے جو کسی کے احسان کا بوجھ اپنے اوپر نہ رکھتے تھے۔اسی وقت دعا کی کہ اے اللہ ہند کے بکریوں کے ریوڑ میں چہوت تبر کریتی ڈال دے۔یہ دعا بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ہند کی بکریوں میں ایسی برکت پڑی کہ سنبھالی نہ جاتی تھیں۔پھر تو ہند رسول خدا کی دیوانی ہوگئیں، خود کہا کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ ایک وقت تھا جب آپ کا گھر میری نظر میں دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر تھا، مگر اب یہ حال ہے کہ روئے زمین پر تمام گھرانوں سے معزز اور عزیز مجھے آپ کا گھر ہے۔(حلبیہ ( 23 وہ لوگ جو اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ اس کی اشاعت تلوار کے زور سے ہوئی۔ذرا وہ بتا ئیں تو سہی کہ وہ کونسی تلوار تھی جس نے عکرمہ اور ہنڈ کا دل فتح کیا تھا، بلاشبہ وہ رسول اللہ کی بے پایاں رحمت ہی تھی۔دشمن اسلام صفوان پر احسان صفوان بن امیہ مشرکین مکہ کے ان سرداروں میں سے تھا، جو عمر بھر مسلمانوں سے نبرد آزما رہے۔صفوان فتح مکہ کے موقع پر عکرمہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے اعلان امن کے باوجود خالد بن ولید کے ساتھ اسلامی دستے پر حملہ آور ہوئے تھے۔پھر بھی نبی کریم نے صفوان کے لئے بطور خاص کسی سزا کا اعلان نہیں فرمایا، مکہ فتح ہونے کے بعد یہ خود سخت نادم اور شرمندہ ہوکر یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا، کیونکہ اپنے جرائم سے خوب واقف تھا اور اپنے خیال میں ان کی معافی کی کوئی صورت نہ پاتا تھا ، اس کے چچا حضرت عمیر بن وہب نے نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو ہر اسود واحم کو امان دے دی ہے۔اپنے چا زاد کا بھی خیال کیجیئے اور اسے معاف فرمائیے۔نبی کریم نے صفوان کو بھی معاف فرما دیا۔حضرت عمیر نے عرض کیا کہ مجھے اپنی امان کا کوئی نشان بھی عطا فرمائیں۔حضور نے اپنا وہ سیاہ عمامہ معافی کی علامت کے طور پر اتار کر دے دیا جو فتح مکہ کے روز آپ نے پہنا ہوا تھا۔عمیر نے جا کر صفوان کو معافی کی خبر دی تو اسے یقین نہ آتا تھا کہ اسے بھی معافی ہو سکتی ہے ، اس نے عمیر سے کہا تو جھوٹا ہے۔میری نظروں سے دور ہو جا، میرے جیسے انسان کو کیسے معافی مل سکتی ہے؟ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔“ حضرت عمیر نے اسے سمجھایا کہ نبی کریم تمہارے تصور سے بھی کہیں زیادہ بہت احسان کرنے والے اور حلیم و کریم ہیں ، ان کی عزت تمہاری عزت اور ان کی حکومت تمہاری حکومت ہے۔اس یقین دہانی پر صفوان نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آتے ہی پہلا سوال یہی دریافت کیا کہ کیا آپ نے مجھے امان دی ہے؟ رسول خدا نے فرمایا ہاں میں نے تمہیں امان دی ہے۔صفوان نے عرض کیا کہ مجھے دو ماہ کی مہلت دے دیں کہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے مکہ میں ٹھہروں، نبی کریم نے چار ماہ کی مہلت عطا فرمائی، یوں اپنے بدترین دشمن سے بھی اعلیٰ درجہ کا حسن سلوک کر کے خلق عظیم کی شاندار مثال قائم فرما دی۔(مالک) 24 بالآخر چند ہی دنوں میں آپ نے صفوان کا دل اپنے جود و سخا سے جیت لیا۔محاصرہ طائف سے واپسی پر حض بر حضور ا یک وادی کے پاس سے گزرے۔جہاں نبی کریم کے مال شمس وفینی کے جانوروں کے ریوڑ چر رہے تھے۔صفوان حیران ہو کر طمع بھری آنکھوں سے ان کو دیکھنے لگا، حضور صفوان کو دیکھ رہے تھے، فرمانے لگے اے صفوان ! کیا یہ جانور تجھے بہت اچھے لگ رہے