اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 514 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 514

514 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل رسول کریم نے تغلب کا وفد مدینہ آنے پر ان سے جو معاہدہ صلح کیا اس میں مذہبی آزادی کی مکمل ضمانت موجود ہے اور یہ ذکر ہے کہ انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کا اختیار ہے مگر یہ آزادی ان کی اولادوں کے لئے بھی ہے کہ وہ ان کو جبر عیسائی نہیں بنائیں گے۔(ابوداؤد ) 43 نبی کریم نے یمن کے عیسائی قبیلہ حارث بن کعب کی طرف عمرو بن حزم کو دعوت اسلام کے لئے بھجوایا اور ان کے نام مکتوب میں تحریری امان لکھ کر بھجوائی جس میں اسلامی احکام کی وضاحت کے بعد تحریر فرمایا کہ یہود ونصاریٰ میں سے جو مسلمان ہوگا اس کے مسلمانوں جیسے حقوق و فرائض ہونگے اور جو عیسائیت یا یہودیت پر قائم رہے گا تو اسے اس کے مذہب سے لوٹایا نہیں جائے گا۔( یعنی مکمل مذہبی آزادی ہوگی ) ہاں ان کے ذمہ جزیہ ہوگا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں ہوں گے۔(ابن ہشام ) 44 اہل ایلہ کے عیسائیوں کو امان نامہ عطا کرتے ہوئے رسول کریم نے تحریر فرمایا:۔دوستم کو مکمل امان ہو جنگ کی بجائے تمہیں یہ تحریر دے رہا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ ادا کرو اور جو معاہدہ صلح تم میرے نمائندوں سے کرو گے مجھے منظور ہے۔اس صورت میں تم اللہ اور رسول کی پناہ میں ہو گے۔( ابن سعد )45 شاہان تعمیر کو رسول کریم نے تحریری امان نامہ عطا کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ:۔”جو شخص یہود یا عیسائیوں میں سے اسلامی احکام کی پابندی کریگا اسے مسلمانوں کے حقوق حاصل ہوں گے اور بطور مسلمان اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی اور جو شخص اپنی یہودیت یا عیسائیت پر قائم رہیگا اسے اس کے مذہب سے ہٹایا نہیں جائے گا البتہ ان کے ہر بالغ پر جزیہ واجب ہوگا۔ایسے لوگ اللہ اور رسول کی امان میں ہونگے۔( ابن ہشام ) 46 اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔چنانچہ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو یہاں رواج تھا کہ انصار کی جن عورتوں کے بچے کم سنی میں فوت ہو جاتے وہ منت مانتیں کہ اگلا بچہ زندہ رہا تو اسے یہودی مذہب پر قائم کریں گی۔جب یہودی قبیلہ بنونضیر کو اس کی عہد شکنی کی وجہ سے مدینہ بدر کیا گیا تو انصار کے ایسے کئی بچے یہودی مذہب پر تھے۔انصار میں سے مسلمان ہونے والوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو یہود کے دین پر نہیں چھوڑیں گے۔دوسری روایت میں ہے کہ انصار نے کہا کہ یہ منتیں اس وقت مانی گئی تھیں جب ہم سمجھتے تھے کہ یہود کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔اب اسلام کے آنے کے بعد ہمیں اپنے بچوں کو زبر دستی اسلام پر قائم کرنا ہوگا۔اس پر یہ آیت اُتَرى لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّين کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔(ابوداؤد ) 47 منافقین مدینہ سے حسن سلوک ہجرت مدینہ کے بعد جن مخالف گروہوں سے رسول اللہ ﷺ کا واسطہ پڑا ، ان میں منافقین کا گر وہ بھی تھا۔ان کی ریشہ دوانیوں کے سدباب کیلئے حسب حکم الہی رسول اللہ ﷺ اقدام فرماتے تھے ، مگر بالعموم ان سے نرمی اور احسان کا