اسوہء انسانِ کامل — Page 515
اسوہ انسان کامل سلوک ہی رہا۔515 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار عبداللہ بن ابی بن سلول منافقوں کا سردار تھا۔ہجرت مدینہ کے بعد وہ مسلسل نبی کریم کے خلاف سازشیں کرتا رہا اور کبھی اہانت و گستاخی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا ہتی کہ حضرت عائشہ پر جھوٹا الزام لگانے کی جسارت کی۔رسول کریم نے اس دشمن کے ساتھ بھی ہمیشہ عفو ورحم کا معاملہ فرمایا، اس کی وفات پر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کیلئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمرؓ نے اس کی زیادتیاں یاد کر وا کر روکنا چاہا۔رسول کریم نہ مانے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ قرآن شریف میں ان منافقوں کے بارہ میں ذکر ہے کہ آپ گستر مرتبہ بھی استغفار کریں تو وہ بخشے نہ جائیں گے۔نبی کریم نے فرمایا عمر پیچھے ہٹو مجھے اس میں اختیار ہے اور میں ستر مرتبہ سے زائد اس کی بخشش کی دعا کرلوں گا۔( بخاری )48 چنانچہ آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ ادا کی اگر چہ بعد میں منافقوں کی نماز جنازہ پڑھانے کی ممانعت قرآن میں نازل ہوئی۔لیکن اس شفقت اور احسان کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ میں نفاق کا خاتمہ ہو گیا۔الغرض رسول کریم ہی آزادی ضمیر ومذہب کے عظیم علمبر دار تھے۔غیروں کا اعتراف اطالوی مستشرقہ پروفیسر ڈاکٹر وگلیری نے اسلامی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ اسلام میں جبر نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان خدائی احکام کی پیروی کرتے تھے اور سب مذاہب کے ساتھ عموماً اور توحید پرست مذاہب کے سات خصوصاً بہت رواداری برتتے تھے۔آپ کفار کے مقابلہ میں صبر اختیار کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کے متعلق یہ ذمہ لیا کہ عیسائی ادارے محفوظ رکھے جائیں گے اور یمن کی مہم کے سپہ سالار کوحکم دیا کہ کسی یہودی کو اس کے مذہب کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے۔آپ کے خلفاء بھی اپنے سپہ سالاروں کو یہ تلقین کرتے تھے کہ دوران جنگ میں ان کی افواج انہی ہدایات پر کار بند ہوں۔ان فتح مند سپہ سالاروں نے مفتوح اقوام کے ساتھ معاہدات کرنے میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نمونے کی پیروی کی۔انہی معاہدات کی وجہ سے مفتوحین کو اپنے اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی ملی۔صرف شرط یہ تھی کہ جولوگ اسلام قبول نہ کریں ایک معمولی سائیکس یعنی جزیہ ادا کریں یہ ٹیکس ان ٹیکسوں سے بہت ہلکا تھا جو خود مسلمانوں پر حکومت اسلامی کی طرف سے عائد ہوتے تھے۔جزیے کے بدلے میں رعایا یعنی ذقی لوگ ایسے ہی مامون ومصون ہو جاتے تھے جیسا که خود مسلمان۔پھر پیغمبر اسلام اور خلفاء کے طریق کو قانون کا درجہ حاصل ہو گیا اور ہم حتما بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے مذہبی رواداری کی تلقین پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ رواداری کو مذہبی قانون کا لازمی حصہ بنادیا۔مفتوحین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد مسلمانوں نے ان کی مذہبی آزادی میں دخل نہیں دیا اور نہ تبدیلی مذہب کے لئے کوئی سختی کی۔“ ( دگلیری) 49