اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 510 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 510

510 مذہبی رواداری اور آزادی ضمیر کے علمبردار اسوہ انسان کامل توڑے ہیں۔نبی کریم نے اس پر تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ تم بغیر اجازت کسی کے گھر گھس جاؤ اور پھل وغیرہ تو ڑو۔(ابوداؤد )26 خیبر کی فتح کے موقع پر ایک یہودیہ کی طرف سے دعوت طعام میں رسول کریم کی خدمت میں بھنی ہائی کا ہی چین کی گئی جس میں زہر ملایا گیا تھا۔حضور نے منہ میں لقمہ ڈالا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ سے علم پا کر اگل دیا۔پھر آپ نے یہود کو اکٹھا کیا اور فرمایا میں ایک بات پوچھوں گا کیا سچ سچ بتاؤ گے؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں اس پر آمادہ کیا؟ انہوں نے کہا، ہم نے سوچا اگر آپ جھوٹے ہیں تو آپ سے نجات مل جائے گی اور اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو یہ زہر کچھ نقصان نہ دے گا۔( بخاری ) 27 رسول کریم نے قاتلانہ حملہ کی مرتکب اس یہودیہ کو بھی معاف فرما دیا اور یہود کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود مدینہ کے یہود سے احسان کا ہی سلوک فرمایا۔ایک دفعہ مدینہ میں یہودی کا جنازہ آرہا تھا۔نبی کریم جنازہ کے احترام کے لئے کھڑے ہو گئے۔کسی نے عرض کیا کہ حضور یہ یہودی کا جنازہ ہے۔آپ نے فرمایا کیا اس میں جان نہیں تھی۔کیا وہ انسان نہیں تھا ؟ ( بخاری ) 28 گویا آپ نے یہود کے جنازے کا بھی احترام فرما کر شرف انسانی کو قائم کیا۔غیر مذاہب کے مُردوں کا احترام حضرت یعلی بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم کے ساتھ کئی سفر کئے۔کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ نے کسی انسان کی نعش پڑی دیکھی ہو اور اسے دفن نہ کروایا ہو آپ نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ یہ مسلمان ہے یا کافر ہے۔(حاکم) 29 چنانچہ بدر میں ہلاک ہونے والے 24 مشرک سرداروں کو بھی آپ نے خود میدان بدر میں ایک گڑھے میں دفن کر وایا تھا۔جسے قلیب بدر کہتے ہیں۔( بخاری ) 30 الغرض نبی کریم نے بحیثیت انسان غیر مسلموں کے حقوق قائم کر کے دکھلائے۔ان کے مردوں تک کا احترام کیا۔حالانکہ وہ مسلمانوں کی نعشوں کی بے حرمتی کرتے رہے مگر آپ نے انتقام لینا کبھی پسند نہ کیا۔غزوہ احزاب میں مشرکین کا ایک سردار نوفل بن عبد اللہ محرومی میدان میں آیا اور نعرہ لگایا کہ کوئی ہے جو مقابلہ میں آئے؟ حضرت زبیر بن العوام مقابلہ میں نکلے اور اسے زیر کر لیا۔دریں اثناء حضرت علیؓ نے بھی نیزہ مارا اور وہ دشمن رسول خندق میں گر کر ہلاک ہو گیا۔مشرکین مکہ اُحد میں رسول اللہ کے چا حمزہ کے ناک کان کاٹ کر ان کی نعش کا مثلہ کر چکے تھے۔وہ طبعا خائف تھے کہ ان کے سردار سے بھی ایسا بدلہ نہ لیا جائے۔انہوں نے رسول اللہ کو پیغام بھجوایا کہ دس ہزار درہم لے لیں اور نوافل کی نعش واپس کردیں، رسول کریم نے فرمایا ہم مردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے۔تم اپنی نعش واپس لے جاؤ۔( بیہقی ) 31 دوسری روایت میں ہے کہ نوفل خندق عبور کرنا چاہ رہا تھا کہ اس میں گر پڑا مسلمان اس پر پتھر برسانے لگے تو مشرکین نے کہا کہ مسلمانو ! اس اذیت ناک طریقے سے مارنے سے بہتر ہے کہ اسے قتل کر دو۔چنانچہ حضرت علیؓ نے