اسوہء انسانِ کامل — Page 490
اسوہ انسان کامل نیتوں پر نظر ہے۔(ابوداؤد ) 4 490 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ یتیم بچیوں کی ولایت ، نکاح اور مالی حقوق کی حفاظت کی تعلیم دیتے ہوئے اللہ تعالی فرمایا ہے:۔اور وہ تجھ سے عورتوں کے بارہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ اللہ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے اور ( متوجہ کرتا ہے اس طرف ) جو تم پر کتاب میں ان یتیم عورتوں کے متعلق پڑھا جا چکا ہے۔جن کو تم وہ نہیں دیتے جو ان کے حق میں فرض کیا گیا حالانکہ خواہش رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرو۔اسی طرح بچوں میں سے (بے سہارا) کمزوروں کے متعلق ( اللہ فتویٰ دیتا ہے ) اور ( تاکید کرتا ہے ) کہ تم قتیموں کے حق میں انصاف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ پس جو نیکی بھی تم کرو گے تو یقینا اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔(النساء: 128) حضرت عائشہ شسورہ نساء کی تیسری آیت میں یتیم بچیوں سے شادی کرنے کے حکم اور اس آیت کے متعلق فرماتی تھیں کہ یہاں مراد ایسی یتیم لڑکی ہے جو کسی شخص کی کفالت میں ہو اور وہ اس کے حسن و مال کی وجہ سے اس سے نکاح کرنا چاہے تو اپنی کفالت کی وجہ سے اس کے حقوق دبائے نہیں اور حق مہر وغیرہ کے بارہ میں انصاف کے جملہ تقاضے پورے کرتے ہوئے نکاح کرے ورنہ نہیں۔( بخاری )5 قرآن شریف نے یتیم کے دلی جذبات اور عزت نفس کا خیال رکھنے کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا کہ جہاں تک یتیم کا تعلق ہے اس سے سختی نہ کر (الضحی : 10) اور یتیم کی عزت کرنے والوں کو روحانی خوشیوں اور مسرتوں سے بھری جنت کی نوید سنائی ہے۔(الدھر:9 تا13) بانی اسلام ﷺ نے بیوہ عورتوں کے خلاف جاری اس ظلم کو بھی روکا کہ وہ مال کی طرح وارثوں میں تقسیم ہوں اور چاہیں تو خود یا کسی اور سے نکاح کر دیں اور چاہیں تو منع کر دیں فرمایا اے مومنو! تمہارے لئے جائز نہیں کے تم زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ ( النساء: 20) اسی طرح فرمایا اور عورتوں میں سے ان سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نکاح کر چکے ہوں سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا۔یقینا یہ بڑی بے حیائی اور بہت قابل نفرین ہے۔اور بہت ہی برا رستہ ہے۔“ (النساء:23 ) اس کی بجائے اسلام نے ان کا یہ حق قائم فرمایا، کہ اپنے خاوند کی وفات کے بعد چار ماہ دس دن کا عرصہ عدت گزارنے کے بعد انہیں اپنے بارہ میں کوئی بھی معروف فیصلہ نکاح وغیرہ کے ذریعے کر سکتی ہیں دوسرے کم از کم ایک سال تک انہیں اپنے خاوند کے گھر میں رہائش کی سہولت دینی ضروری ہے سوائے اس کے کہ وہ خودا سے چھوڑ دیں۔(البقرہ: 241,235) یتامی و ایامی کا نجات دھندہ ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی ہے جو خود ایک یتیم تھے اور ان لاوارث یتامی وایامی کے والی اور محافظ بن کر آئے تھے۔آپ نے اس قرآنی تعلیم کے ذریعہ ان کے حقوق نہ صرف قائم کئے بلکہ معاشرہ سے دلوا کر دکھائے۔آپ نے خوبصورت اسلامی تعلیم پر عمل کر کے دکھایا اور فرمایا کہ ”بیوگان اور مسکین کے لئے کوشش اور خدمت میں لگا رہنے والا