اسوہء انسانِ کامل — Page 487
اسوہ انسان کامل 487 ہمارے نبی حامی و ایامی کے والی اور محافظ ہمارے نبی یتامی و ایامی کے والی اور محافظ پس منظر قبل از اسلام۔3 ھ میں اہل مدینہ کی معاشرتی زندگی پر ایک سخت ابتلا آیا جب غزوہ احد میں ستر صحابہ شہید ہو گئے۔اور کئی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے۔اس نازک المیہ کے موقع پر جہاں قرآن شریف کی سورۃ النساء میں اس سانحہ کو بعض مسلمانوں کی اپنی ہی کوتاہی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شہداء کے مقام و مرتبہ اور ان کے لواحقین کے صبر واستقلال کا ذکر کر کے تمام مومنوں کو تسلی دلائی گئی ، وہاں معاشرہ میں یتامیٰ کے پیدا ہونے والے مسائل کے بارہ میں بھی وضاحت فرمائی۔جوامت میں آئندہ پیدا ہونے والی ایسی کسی بھی صورتحال کے لئے عمدہ رہنمائی ہے۔دنیا میں ایسے سانحہ کے موقع پر عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ فوری وقتی ہمدردی کے بعد یتامی اور بیوگان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور ان کو لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور ان کے حقوق سے زیادہ اپنے مفادات پیش نظر رکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔بعض دفعہ بیوگان کے موروثی مال و جائیدادکو دیکھ کر شادی بھی کر لی جاتی ہے مگر ان کے یتیم بچے سہارا ملنے کی بجائے سوتیلے باپ کی زیادتیوں کا شکار ہو کر اپنے ہی اموال سے محروم رہ جاتے ہیں اور معاشرے کا مظلوم طبقہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔اسلام سے قبل بھی یتامی اور بیوگان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ان کے حقوق معاشرت اور عزت و تکریم کا خیال تو در کنار انہیں حقارت سے دھتکار دیا جاتا تھا۔اہل عرب کی حالت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے ، یہ وہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا ( الماعون: 4) دوسری جگہ ان منکرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ”خبردار! در حقیقت تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔“ (الفجر :18,19 )۔رسول کریم خود یتیم تھے۔آپ کی رضاعت کے لئے موزوں خاندان کی تلاش ہوئی تو بوجہ یتیم ہونے کے کوئی دایہ آپ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔بالا خر بنوسعد قبیلہ کی حلیمہ سعدیہ کو جب کوئی اور بچہ پرورش کے لئے نہ ملاتو وہ مجبورا آپ کو قبول کرنے پر آمادہ ہوئی۔اس زمانہ میں یتیم بچیوں کے حقوق کی بھی کوئی ضمانت نہ تھی۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جس شخص کے پاس یتیم بچی کی کفالت ہوتی تھی اس زمانہ کی رسم کے مطابق اگر وہ ایک دفعہ اس پر کپڑا پھینک دیتا تو پھر کوئی اور اس سے کبھی بھی نکاح نہیں کر سکتا تھا۔اگر تو وہ لڑ کی خوش شکل ہوتی اور اسے پسند ہوتی تو خود اس سے شادی کر کے اس کے مال کا بھی مالک بن جاتا اور اگر وہ بد صورت ہوتی تو دوسروں کو اس سے نکاح کرنے سے روک دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تو وہی اس کے وارث ہوتے۔قرآن شریف میں ان بد رسوم سے روکا گیا۔اور ارشاد ہوا کہ یتیم بچیوں سے انصاف کا معاملہ کرو۔(ابن کثیر ) 1