اسوہء انسانِ کامل — Page 35
سوانح حضرت محمد علی اسوہ انسان کامل فتح مکه 35 صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کی تبلیغ سے ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہور ہا تھا جس پر قریش اندرہی اندر سخت ناراض تھے اور مسلمانوں کو کسی بہانہ سے نیچا دکھانا چاہتے تھے۔اسی دوران قریش کے حلیف بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنوخزاعہ پر پرانی دشمنی کی وجہ سے حملہ کر کے ان کا جانی نقصان کیا۔قریش نے صلح حدیبیہ کی شرائط کے مطابق انہیں اس ظلم سے روکنے کی بجائے الٹا ہتھیاروں سے مدد کی۔اب مسلمانوں کا فرض تھا کہ حسب معاہدہ اپنے حلیف بنو خزاعہ کی مدد کرتے چنانچہ جب خزاعہ کا وفد رسول کریم ﷺ کی خدمت میں مدد کا طالب ہو کر گیا تو آپ نے فرمایا کہ ”ہم ضرور معاہدہ کے مطابق تمہاری امداد کریں گئے۔پھر آپ نے قریش کو کہلا بھیجا کہ یا تو بنوخزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا ادا کریں یا بنو بکر سے علیحدگی اختیار کر لیں یا معاہدہ حدیبیہ کے ختم ہونے کا اعلان کر دیں۔انہوں نے جواب دیا کہ ہم معاہدہ ختم کرتے ہیں مگر بعد میں اس پر پچھتائے تو ابوسفیان کو تجدید معاہدہ کے لئے مدینہ بھیجوایا مگر وہ نا کام واپس آیا۔(ابن ہشام ) 92 ادھر رسول کریم ﷺ نے بنوخزاعہ کی مدد کرنے کے لئے حلیف قبائل کو ساتھ ملا کر 10 رمضان کو دس ہزار صحابہ کے ساتھ نہایت خاموشی سے مکہ کی طرف پیش قدمی شروع کی اور حضرت موسی کی وہ پیشگوئی پوری ہوگئی کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔آپ نے ساری فوج کو مرالظہر ان کے میدان میں آگئیں روشن کرنے کا ارشاد فرمایا جب سرداران مکہ نے ان کو دیکھا جو اسلامی لشکر کا پتہ چلانے نکلے تھے تو حیرت زدہ ہو کر رہ گئے۔حضرت عباس مشرک سرداروں میں سے ابوسفیان کو اپنی حفاظت میں لے کر رسول کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور اگلی صبح اس نے اسلام قبول کر لیا۔رسول کریم اللہ نے مکہ میں پر امن داخلہ کی خاطر یہ اعلان کروا دیا کہ ہر اس شخص کو امان دی جائے گی جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے یا ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے یا اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے یا ہتھیار ڈال دے۔اسکے بعد آپ کا لشکر مکہ کی چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہوا۔حضرت خالد بن ولید عکرمہ بن ابو جہل کی معمولی مزاحمت اور مقابلہ کے بعد بالائی حصہ سے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔رسول کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اسے بتوں سے پاک کیا۔کلید بردار کعبہ عثمان بن طلحہ سے خانہ کعبہ کی چابی منگوا کر آپ اندر داخل ہوئے اور پھر یہ چابی اسی کے سپر د کر دی۔اس اعلیٰ ظرفی کا اس پر بہت اثر ہوا۔اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور مکہ کی حرمت وعزت وغیرہ اہم امور پر مشتمل تھا۔آپ نے اپنے جانی دشمنوں اور خون کے پیاسوں مکہ والوں سے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے کہا آپ ہمارے معزز بھائی اور معزز بھائی کے بیٹے ہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ تم سب آزاد ہو تم پر کوئی سرزنش یا گرفت نہیں۔پھر آپ نے واقعی سب جانی دشمنوں کو صدق دل سے بخش دیا۔ابو جہل کا بیٹا