اسوہء انسانِ کامل — Page 466
466 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات اسوہ انسان کامل قائم فرمایا۔روز مرہ خانگی امور سے ہٹ کر مالی امور میں شہادت کے لئے دو عورتوں کی گواہی کو قبول کرنے کا اصول مقرر فرمایا جبکہ بعض امور میں حسب حالات وضرورت تنہا عورت کی گواہی بھی قبول فرمائی جیسے ولادت ورضاعت وغیرہ۔غرضیکہ ہر شعبہ زندگی میں اپنے دائرہ عمل میں رہتے ہوئے عورت کو مکمل آزادی عطا فرمائی۔آپ نے عورت کے حقوق کھول کر بیان فرمائے۔حضرت معاویہ بن حیدہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت نے اس سوال پر کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کی بیوی کا ہم پر کیا حق ہے؟ رسول کریم نے فرمایا کہ تم کھانا کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، خود لباس پہنتے ہو تو اسے بھی پہناؤ۔یعنی اپنی توفیق اور استطاعت کے مطابق جوتمہارا اپنا معیار زندگی ہے۔بیوی کے حقوق ادا کرو۔اُسے سرزنش کرتے ہوئے چہرے پر کبھی نہ مارو اور کبھی پُر ابھلا نہ کہوا سے گالی گلوچ نہ کرو۔اور اس سے کبھی جدائی اختیار نہ کرو، ہاں ضرورت پیش آنے پر گھر کے اندر بستر سے جدائی اختیار کرنے کی اجازت ہے۔(ابوداؤد ) 15 جہاں تک مجبوری کی صورت میں عورت کو سزا دینے کا ذکر ہے۔یا د رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے مرد کو جو گھر کا سر براہ اعلیٰ ہوتا ہے، صرف بے حیائی سے روکنے کیلئے اس کی اجازت دی ہے، جیسا کہ خطبہ حجتہ الوداع میں ذکر آئیگا۔مگر آنحضرت ﷺ نے جب دیکھا کہ اس رخصت کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو آپ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا لَا تَضْرِبُوا اِمَاءَ اللهِ۔عورتیں تو اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں، ان پر دست درازی نہ کیا کرو۔ایک اور موقع پر بعض لوگوں کے بارے میں جب یہ پتہ چلا کہ وہ عورتوں سے سختی کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ " لَيسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ - یعنی یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔“ ( ابوداؤد ) 16 آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو خطاب فرمایا ہے وہ ایک نہایت ہی جامع اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔اس میں آپ نے عورتوں کے حقوق کے متعلق خاص طور پر تاکید کی اور فرمایا کہ دیکھو میں تمہیں عورتوں کے حقوق کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں کہ یہ بیچاریاں تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہی تو ہوتی ہیں۔تمہیں ان پر سخت روی کا صرف اسی صورت میں اختیار ہے کہ اگر وہ کسی بے حیائی کی مرتکب ہوں تو تم اپنے بستروں میں اُن سے جدائی اختیار کر سکتے ہو یا اس سے اگلے قدم کے طور پر انہیں کچھ سرزنش کرتے ہوئے سزا بھی دے سکتے ہو، مگر سزا بھی ایسی جسکا جسم کے اوپر کوئی نشان یا اثر نہ پیدا ہو۔اگر وہ اطاعت کرلیں تو پھر اُن کیلئے کوئی اور طریق اختیار کرنا مناسب نہیں۔یادرکھو جس طرح تمہارے عورتوں کے اوپر کچھ حقوق ہیں۔اسی طرح عورتوں کے بھی کچھ حق ہیں جو تم پر عائد ہوتے ہیں۔تمہارا حق عورتوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے لئے اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والی ہوں اور تمہاری مرضی کے سوا کسی کو تمہارے گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں۔اور اُن کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اُن کے ساتھ لباس میں، پوشاک میں اور کھانے پینے میں احسان کا سلوک کرنے والے ہو اور جس حد تک توفیق اور استطاعت ہے ، اُن سے حسن سلوک کرو۔(ترمذی) 17