اسوہء انسانِ کامل — Page 467
اسوہ انسان کامل 467 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات اطالوی مستشرقہ پروفیسر ڈاکٹروگلیری نے اسلام میں عورت کے تحفظ حقوق اور مثالی مقام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:۔اسلامی شریعت کے آنے سے پہلے تعدد ازدواج پر کوئی قید نہ تھی اور اسلامی قانون نے بہت کی پابندیاں لگا کر مسلمانوں کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کو جائز رکھا۔اسلام نے ان مشروط اور عارضی نکاحوں کو ناجائز قرار دیا جو دراصل حرامکاری کو جائز بنانے کے مختلف بہانے تھے مزید برآں اسلام نے عورتوں کو ایسے حقوق عطا کئے جو انہیں پہلے کبھی حاصل نہ تھے۔۔گو سماجی اعتبار سے یورپ میں عورت کو بڑا درجہ حاصل ہے لیکن اگر ہم چند سال پیچھے جائیں اور یورپ کی عورت کی خود مختاری کا موازنہ دنیائے اسلام کی عورت کی خود مختاری سے کریں تو معلوم ہوگا کہ یورپ میں عورت کی حیثیت کم از کم قانونی لحاظ سے بہت ادنیٰ رہی ہے اور بعض ملکوں میں اب تک یہی صورت باقی ہے۔ایک مسلمان عورت کو حق ہے کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ ورثہ میں شریک ہو۔( گونسبتا اس کا حصہ کم ہے ) اور اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہ کی جائے اور شوہر اس سے بدسلو کی نہ کرے۔علاوہ بریں اسے یہ بھی حق ہے کہ شوہر سے اپنا مہر وصول کرے اور نان و نفقہ میں خواہ وہ عورت پیدائشی مال دار ہو اور اگر وہ عورت قانونی لحاظ سے اس قابل ہو تو اسے یہ بھی حق ہے کہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی ذاتی جائداد کا انتظام کرے۔‘ ( و گلیری)18 پی ایئر کر یبائٹس لکھتے ہیں:۔"Muhammad, thirteen hundred years ago, assured to the mothers, wives and daughters of Islam a rank and dignity not yet generally assured to women by the laws of the West۔" محمد اللہ نے تیرہ سو سال قبل اسلام میں ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں کے لئے وہ مقام اور وقار یقینی بنادیا جو ابھی تک مغرب کے قوانین میں عورت کو نہیں مل سکا۔“ ( پورٹ )19 سچ ہے وہ رحمت عالم آتا ہے تیرا حامی ہو جاتا ہے تو بھی انساں کہلاتی ہے سب حق تیرے دلواتا ہے