اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 463 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 463

463 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات اسوہ انسان کامل حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم جاہلیت میں عورت کو چنداں اہمیت نہیں دیتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کے بارے میں قرآن شریف میں احکام نازل فرمائے اور وراثت میں بھی ان کو حقدار بنا دیا۔ایک دن میں اپنے کسی معاملہ میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی بولی اگر آپ اس طرح کر لیتے تو ٹھیک ہوتا۔میں نے کہا تمہیں میرے معاملہ میں دخل اندازی کی جرات کیوں ہوئی ؟ وہ کہنے لگی تم چاہتے ہو کہ تمہارے آگے کوئی نہ بولے اور خود تمہاری بیٹی رسول اللہ کے آگے بولتی ہے۔( بخاری )3 عربوں کے دستور کے مطابق جاہلیت کے زمانہ میں بیوہ عورت خود شوہر کی وراثت میں تقسیم ہوتی تھی۔مرد کے قریبی رشتہ دار ( مثلاً بڑا سوتیلا بیٹا ) عورت کے سب سے زیادہ حق دار سمجھے جاتے تھے۔اگر وہ چاہتے تو خود اس عورت سے شادی کر لیتے۔خود نہ کرنا چاہتے تو ان کی مرضی کے مطابق ہی دوسری جگہ شادی ہوسکتی۔عورت کا اپنا کوئی حق نہ تھا۔( بخاری )4 نبی کریم نے بیوہ عورت کو نکاح کا حق دیا اور فرمایا کہ وہ اپنی ذات کے بارہ میں فیصلہ کے متعلق ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔( بخاری )5 اس زمانہ میں یتیم بچیوں کے حقوق کی کوئی ضمانت نہ تھی۔بعض دفعہ ایسی مالدار یتیم لڑکیوں کے ولی ان کے مال پر قبضہ کرنے کے لئے خودان سے شادی کر لیتے تھے اور حق مہر بھی اپنی مرضی کے مطابق معمولی رکھتے تھے۔قرآن شریف میں ان بد رسوم سے بھی روکا گیا۔اور ارشاد ہوا کہ یتیم بچیوں سے انصاف کا معاملہ کرو۔( بخاری )6 اسلام سے پہلے عورت کی ناقدری اور ذلت کا ایک اور پہلو یہ تھا کہ اپنے مخصوص ایام میں اسے سب گھر والوں سے جدار ہنا پڑتا تھا۔خاوند کے ساتھ بیٹھنا تو در کنار اہل خانہ بھی اس سے میل جول نہ رکھتے تھے۔(مسلم )7 آنحضرت نے اس معاشرتی برائی کو دور کیا اور آپ کی شریعت میں یہ حکم اترا کہ حیض ایک تکلیف دہ عارضہ ہے ان ایام میں صرف ازدواجی تعلقات کی ممانعت ہے عام معاشرت ہر گز منع نہیں۔(سورۃ البقرہ:223) چنانچہ آنحضور بیویوں کے مخصوص ایام میں ان کا اور زیادہ لحاظ فرماتے۔ان کے ساتھ مل بیٹھتے۔بستر میں ان کے ساتھ آرام فرماتے اور ملاطفت میں کوئی کمی نہ آنے دیتے۔(ابوداؤد )8 خاوند کی وفات کے بعد عرب میں عورت کا حال بہت رسوا کن اور بد تر ہوتا تھا۔اسے بدترین لباس پہنا کر گھر سے الگ تھلگ ویران حصہ میں ایک سال تک عدت گزارنے کے لئے رکھا جاتا۔سال کے بعد عربوں کے دستور کے مطابق کسی گزرنے والے کتے پر بکری کی مینگنی پھینک کر اس قید خانہ سے باہر آتی تھی۔( بخاری ) 9 اس دور جاہلیت میں عورتوں کی ناگفتہ بہ حالت اور رسول اللہ کے پیدا کردہ انقلاب کی نہایت سچی تصویر سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے خوب کھینچی ہے۔آپ اس دور کا تصور کر کے عورتوں سے مخاطب ہیں:۔