اسوہء انسانِ کامل — Page 462
اسوہ انسان کامل 462 طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات طبقہ نسواں پر رسول کریم کے احسانات عورت۔۔۔۔اسلام سے قبل ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ " وہ پہلے مرد ہیں جنہوں نے عورتوں کے حقوق کے لئے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ ان کے حقوق قائم کر کے دکھائے۔عورتوں پر آپ کے بے پایاں احسانات کا اندازہ کرنے کے لئے ہمیں اس دور میں جانا ہوگا۔جس میں رسول کریم کے زمانہ کی خواتین بود و باش رکھتی تھیں۔اس معاشرہ میں عورت کی حیثیت کا اندازہ اس قرآنی بیان سے بخوبی ہوتا ہے کہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خبرملتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور سخت غمگین ہو جاتا ہے۔وہ لوگوں سے اس بُری خبر کی وجہ سے چھپتا پھرتا ہے کہ آیا وہ اس ذلت کو قبول کرلے یا اسے مٹی میں دیا دے۔کتنا برا ہے وہ جو فیصلہ کرتے ہیں۔(سورۃ النحل: 60) عرب کے بعض قبائل میں غیرت وحمیت کے باعث لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا ظالمانہ رواج تھا۔ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹی کو گڑھے میں گاڑ دینے کا دردناک واقعہ سنایا۔کہ یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت کے زمانہ میں بس رہے تھے بتوں کی پرستش کرتے اور اولاد کو قتل کرتے تھے۔میری ایک بیٹی تھی۔جب وہ میری بات سمجھنے اور جواب دینے کے قابل ہوئی تو میرے بلانے پر بھاگی بھاگی آتی تھی۔ایک دن میں نے اسے بلایا تو وہ میرے ساتھ چل پڑی۔میں اپنے خاندان کے ایک کنوئیں کے پاس پہنچا اور اس معصوم بچی کو پکڑ کر اُس میں پھینک دیا۔مجھے اتنا یاد ہے کہ میں نے اس کی دلدوز چیخیں سنیں وہ مجھے پکارتی رہی ہائے میرے ابا ، ہائے میرے ابا۔رسول کریم نے یہ سنا تو بے اختیار آبدیدہ ہو گئے آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوؤں بہنے لگے۔اس دوران مجلس میں سے حضور کے ایک صحابی اُس شخص سے مخاطب ہوئے کہ تم نے اللہ کے رسول کو غمگین کر دیا ہے۔رسول کریم نے اس صحابی کو یہ کہ کر خاموش کروا دیا کہ یہ بے چارہ تو اپنے اس گناہ کی تلافی کی بابت پوچھنا چاہتا ہے۔پھر اس شخص سے فرمایا کہ دوبارہ اپنی ساری بات سُناؤ۔اس نے پھر یہ دلدوز کہانی سُنائی تو رسول کریم رو پڑے اور آنسو کی برسات سے آپ کی ریش مبارک بھی گیلی ہوگئی۔پھر آپ نے اس سائل سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے زمانے کے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔اب اسلام میں اپنے نئے نیک اعمال کا سلسلہ شروع کرو۔“ ( دارمی ) 1 رسول کریم نے یہ تعلیم دی کہ جس شخص کے گھر بیٹی ہو اور وہ اسے زندہ درگور کرے، نہ اسے ذلیل کرے اور نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“ ( احمد )2