اسوہء انسانِ کامل — Page 27
اسوہ انسان کامل غزوہ بنو مصطلق 27 سوانح حضرت محمد علی 5ھ میں رسول کریم ﷺ کو قبیلہ بنو مصطلق کے مدینہ پر حملہ کی تیاری کی اطلاع ملی۔آپ نے صحابہ کے ساتھ ممریسیع کی طرف پیش قدمی فرمائی اور اس قبیلہ کی سرکوبی کے بعد واپس تشریف لائے۔اس مہم کے دوران دو ناخوشگوار واقعات ہوئے۔ایک تو چشمہ مریسیع پر پانی لیتے ہوئے انصار و مہاجرین کے دو نادانوں کے جھگڑے کی وجہ سے ان دونوں گروہوں میں تصادم ہونے کو تھا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے انصار کو کھلم کھلا کہہ دیا کہ اگر تم مکہ والوں کو پناہ نہ دیتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔(طبری) 70 اس موقع پر اس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں نہایت گستاخانہ کلمات بھی کہے۔جن سے صاف عیاں ہے کہ وہ اپنے مزعومہ مقاصد کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ تھا ورنہ دل سے اللہ اور رسول سے کوئی عقیدت یا احترام کا تعلق نہ تھا۔اس کے باوجود رسول کریم ﷺ نے ہمیشہ اس سے احسان کا سلوک کیا۔لیکن اس نے کوئی موقع مخالفت یا شرانگیزی کا ہاتھ سے جانے نہ دیا۔واقعہ افک غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر سردار منافقین عبداللہ بن ابی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ پر جھوٹا الزام لگا کر رسول کریم ﷺ اور مہاجرین سے انتقام لینے کی ایک راہ نکالی۔ہوا یوں کہ غزوہ بنو مصطلق سے واپسی پر مدینہ کے قریب پہنچ کر رسول کریم ﷺ نے علی الصبح کوچ کا حکم دیا تو حضرت عائشہ حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے لئے نکلیں۔واپسی پر دیکھا کہ گلے کا ہار موجود نہیں۔اس کی تلاش میں دوبارہ واپس چلی گئیں۔اس دوران قافلہ والوں نے حضرت عائشہ کو ( جو ہلکے پھلکے بدن کی تھیں) ہو رج کے اندر سمجھتے ہوئے اسے اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور قافلہ روانہ ہو گیا۔لشکر کے پیچھے حضرت صفوان بن معطل کی ڈیوٹی تھی۔وہ جب حضرت عائشہ کو بحفاظت اپنے اونٹ پر سوار کرا کے دو پہر کے وقت اگلے پڑاؤ پر پہنچے تو سب سے پہلے عبداللہ بن ابی ام المومنین پر بہتان لگاتے ہوئے گستاخانہ کلمات زبان پر لے آیا۔جس کے بعد کچھ کمزور لوگ بھی الزام تراشی کی اس رو میں بہہ کر ہلاک ہو گئے۔حضرت عائشہ مدینہ جاکر اتفاقا بیمار ہوکر والدین کے گھر چلی گئیں۔ان کی معصومیت کا یہ عالم تھا کہ اپنے خلاف اس بہتان تراشی سے قطعی بے خبر تھیں۔یہاں تک کہ جب ایک خادمہ نے ان سے ذکر کیا تو انہیں سخت صدمہ پہنچا۔نیند حرام ہوگئی آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے۔آپ خود بیان فرماتی ہیں کہ میں سمجھتی تھی کہ اگر اللہ نے کوئی فیصلہ نہ کیا تو میرا جگر پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔یہ کیفیت بذات خود مجسم دعا تھی۔حضرت عائشہ کو اللہ پر کامل تو کل کے ساتھ یہ احساس غالب تھا کہ وہ ضرور ان کی بریت فرمائے گا اور آخر وہ دن آ گیا جب حضرت نبی کریم پر حضرت عائشہ کے گھر میں ہی وحی کی کیفیت طاری ہو گئی جس کے بعد آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا