اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 392 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 392

اسوہ انسان کامل 392 غزوات النبی میں خلق عظیم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاہی سواری آئی تو وہاں کچھ اور ہی منظر تھا۔رب جلیل کا یہ پہلوان حفاظتی خود کے اوپر سیاہ رنگ کا عمامہ پہنے اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھا اور سرخ رنگ کی یمنی چادر پہلو پر تھی۔سواری پر پیچھے اپنے وفادار غلام زیڈ کے بیٹے اسامہ کو بٹھایا ہوا تھا۔دائیں جانب ایک وفادار ساتھی حضرت ابو بکرؓ تھے اور بائیں جانب حضرت بلال اور اُسید بن حضیر انصاری سردار تھے۔( بخاری )70 فتح مکہ کے دن امن کے اعلان عام کی خاطر رسول خدا نے سفید جھنڈا لہرایا جب کہ بالعموم آپ کا جھنڈا سیاہ رنگ کا ہوا کرتا تھا۔مکہ میں داخلہ کے وقت رسول اللہ سورہ فتح کی آیات تلاوت فرما رہے تھے اور آپ کی سواری شہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔پھر وہ موڑ آیا جس سے مکہ میں داخل ہوتے ہیں وہی موڑ ، جہاں آٹھ سال پہلے مکہ سے نکلتے ہوئے آپ نے وطن عزیز پر آخری نگاہ کرتے ہوئے اسے اس طرح الوداع کہا تھا کہ اے مکہ ! تو میرا پیارا وطن تھا اگر تیری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز نہ نکلتا سرولیم میورلکھتا ہے کہ خدشہ تھا کہ شاید اس جگہ نبی کریم کو مکہ میں داخلہ سے روکنے کیلئے مزاحمت ہوگر اللہ کی شان کہ خدا کا رسول آج نہایت امن سے اپنے شہر میں داخل ہو رہا تھا ( میور )71 اس موقع پر مفتوح قوم نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی فتح کے دن غرور اور تکبر کے کسی اظہار کی بجائے خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر اس عظیم فاتح کا سر عجز وانکسار اور شکر کے ساتھ جھک رہا تھا حتی کہ جھکتے جھکتے وہ اونٹنی کے پالان کو چھونے لگا دراصل آپ سجدہ شکر بجالا رہے تھے اور یہ فقرہ زبان پر تھا۔اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ الَّا عَيْشَ الْآخِرَة کہ اے اللہ ! اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔دنیا کی فتوحات کی کیا حقیقت ہے۔( ابن ھشام ) 72 اللہ اللہ! محمدمصطفی ﷺ کی استقامت کتنی حیرت انگیز ہے اور آپ کی بے نفسی کا بھی کیا عجیب عالم ہے اپنی زندگی کے سب سے بڑے ابتلا پر جنگ احزاب میں بھی آپ یہی فقرہ دہراتے تھے۔اللَّهُمَّ لَاعَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةَ کہ یہ دکھ تو عارضی ہیں اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور اپنی زندگی کی عظیم ترین فتح کے موقع پر بھی آپ کمال شانِ استقامت سے وہی نعرہ بلند کرتے ہیں۔سبحان اللہ! کیسا کوہ وقار انسان ہے کہ ابتلاء ہو یا فتح تنگی ہو یا آسائش اس کے قدمِ صدق میں کوئی لغزش نہیں آتی۔آئیے ! اس فقرہ کی سچائی جاننے کیلئے ذرا اس عظیم فاتح کے جشن فتح کا نظارہ کریں۔سادگی و قناعت دو پہر ہوا چاہتی ہے۔کھانے کا وقت ہے فاتحین عالم کے جشن کے نظاروں کا تصور کرتے ہوئے آؤ دیکھیں کہ یہ عظیم فاتح آج کیا جشن مناتا ہے؟ اور کیا لذیذ کھانے اڑائے جاتے ہیں؟ وہ مقدس وجود جس کی خاطر یہ کائنات بنائی گئی جس کے طفیل ہم ادنی بھی قسم قسم کی نعمتوں سے حصہ پاتے ہیں آؤ اس کی عظیم ترین فتح کے دن دیکھیں تو سہی کہ کتنے