اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 373 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 373

غزوات النبی میں خلق عظیم 373 اسوہ انسان کامل little of it, contenting themselves with dates۔' It is not surprising that when, sometime afterwards, their friends came to ransom them, several of the prisoners who had been thus received declared themselves adherents of Islam; and the such the Prophet granted liberty without ransom۔" محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہدایہ ہے پر عمل کرتے ہوئے اہالیانِ مدینہ اور وہ مہاجرین جنہوں نے یہاں اپنے ر بنالئے تھے کے پاس جب ( بدر کے قیدی آئے تو انہوں نے ان سے نہایت عمدہ سلوک کیا۔بعد میں خود ایک قیدی کہا کرتا تھا کہ اللہ رحم کرے مدینہ والوں پر۔وہ ہمیں سوار کرتے تھے اور خود پیدل چلتے تھے۔ہمیں کھانے کے لئے گندم کی روٹی دیتے تھے جس کی اس زمانہ میں بہت قلت تھی اور خود کھجوروں پر گزارا کرتے تھے۔اس لحاظ سے یہ بات تعجب انگیز نہیں ہونی چاہئے کہ بعد میں جب ان قیدیوں کے لواحقین فدیہ لے کر انہیں آزاد کروانے آئے۔ان میں سے کئی قیدیوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور ایسے تمام قیدیوں کو رسول اللہ نے فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا۔“ ( میور ( 20 غزوہ احد میں دوراندیشی غزوات النبی میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کھل کر سامنے آئے ، وہاں آپ کی قائدانہ صلاحیتوں ، حکمت عملی اور دوراندیشی کا بھی کھل کر اظہار ہوا۔غزوۂ احد کے موقع پر جب آپ نے شہر مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کا ارادہ فرمایا تو شہر کو دشمن سے حفاظت کی خاطر اپنے پیچھے رکھا ایک طرف سے احد پہاڑ کی آڑلیکر اُ سے ڈھال بنایا۔اسی دوران حضور کی نظر اس پہاڑی درے پر پڑی جہاں سے دشمن کے حملے کا خطرہ ہوسکتا تھا۔آپ نے وہاں پچاس تیرانداز عبداللہ بن جبیر کی سرکردگی میں مقرر فرمائے اور انہیں جو ہدایات دیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بہترین جرنیل ہوتے ہوئے دڑے کی نزاکت کا کتنا احساس تھا۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری لاشوں کو اچک رہے ہیں پھر بھی تم نے درّہ نہیں چھوڑ نا سوائے اس کے کہ میرا پیغام تمہیں پہنچے۔( بخاری ) 21 صحابہ کی تربیت حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب لوگ پسپا ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( چند ساتھیوں کے ساتھ ) رہ گئے تو ابوطلحہ حضور کے سامنے اپنی ڈھال لے کر کھڑے ہو گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سراٹھا کر دشمن کی طرف دیکھنا چاہتے تو ابوطلحہ عرض کرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ اس طرح سے دشمن کی طرف نہ جھانکیے کہیں دشمن کا کوئی تیر آپ کو لگ نہ جائے۔( آقا!) آج میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے سپر ہے۔مجھے تیر لگتا ہے تو لگے آپ