اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 370 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 370

اسوہ انسان کامل 370 غزوات النبی میں خلق عظیم میں شریک تھے۔جب رسول اللہ کی باری ہوتی تو یہ دونوں کہتے ہم آپ کی خاطر پیدل چلیں گے آپ سوار رہیں۔رسول کریم فرماتے تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو اور نہ میں تم دونوں کی نسبت اجر سے بے نیاز ہوں۔“ مجھے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اجر کی ضرورت ہے۔( احمد ) 12 اپنے صحابہ کی حوصلہ افزائی اور دلداری ایک بہترین سپہ سالار کی طرح رسول اللہ کی نظر اپنے سپاہیوں کی کارکردگی پر رہتی تھی۔اور اپنے ساتھیوں کی مناسب رنگ میں حوصلہ افزائی فرماتے رہتے تھے۔حضرت علی نے غزوہ احد سے واپسی پر اپنی تلوار حضرت فاطمہ کے سپرد کی کہ اسے سنبھال رکھیں کہ آج یہ جنگ میں خوب کام آئی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا ہاں ! اے علی! آج آپ نے بھی خوب تلوار زنی کی ہے، مگر عاصم بن ثابت سہل بن حنیف، حارث بن صمہ اور ابودجانہ نے بھی کمال کر دکھایا ہے۔(ھیمی )13 رسول اللہ جنگ میں بھی جہاں اپنے صحابہ کی دلداری کا خیال رکھتے تھے، وہاں راہ خدا میں جان کی قربانی پیش کرنے والوں کا بہت اعزاز فرماتے تا کہ آئندہ قربانی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔غزوہ خیبر میں جب ایک صحابی عامر سردار یہود مرحب کے مقابل پر اپنی تلوار کے کاری زخم سے جانبر نہ ہو سکے تو بعض لوگوں نے عامر کی شہادت کو خود کشی گمان کیا۔عامر کے بھتیجے حضرت سلمہ بن الاکوع یہ سکر بہت غمگین ہوئے۔وہ بیان کرتے ہیں میں اس حال میں تھا، اچانک کیادیکھتا ہوں۔میرے آقا محمدصلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر سہلا رہے ہیں اور فرماتے ہیں تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے عامر کے بارہ میں لوگوں کے خیال کا ذکر کیا۔صادق و مصدوق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بھی یہ کہا غلط کہا ہے۔پھر آپ نے اپنی دوانگلیاں ملا کر فرمایا عامر کیلئے دوہرا اجر ہے۔وہ تو جہاد کر نیوالا ایک عظیم الشان مجاہد تھا۔( بخاری )14 خدام سے شفقت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھے ابو عامر کے ساتھ غزوہ اوطاس کے لئے بھجوایا۔ان کے گھٹنے میں تیر لگا۔جس سے ایک کاری جان لیوا زخم ہوا۔میں نے تیر کھینچا تو پانی نکلا۔مجھے ابو عامر کہنے لگے بھتیجے رسول اللہ کو میر اسلام عرض کرنا اور درخواست کرنا کہ میرے لئے بخشش کی دعا کریں۔پھر تھوڑی دیر بعد ان کی روح پرواز کرگئی۔میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کر دیا اور ابو عامر کا پیغام سلام و دعا بھی پہنچایا۔رسول کریم نے پانی منگوا کر وضو کیا۔پھر دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور یہ دعا کی اے اللہ! اپنے بندے ابو عامر کو بخش دے، اے اللہ ! اسے قیامت کے دن اپنی مخلوق میں سے بہت لوگوں کے اوپر فوقیت عطا کرنا۔میں نے عرض کیا یا حضرت! میرے لئے بھی