اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 23 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 23

اسوہ انسان کامل 23 سوانح حضرت محمد علی شرارتوں سے باز آجانے کا انتباہ کیا گیا تو بجائے اصلاح کے وہ الٹا دھمکیوں پر اتر آئے۔مجبوراً ان کے قلعوں کا محاصرہ کرنا پڑا۔ہر چند کہ تو رات کے فیصلہ کے مطابق وہ واجب القتل تھے ،مگر رسول کریم ﷺ نے اس شرط پر ان کی جان بخشی کر دی کہ وہ مدینہ سے چلے جائیں۔(طبری) 55 اس سال کے آخر میں آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کے لئے ایک مقبرہ تجویز فرمایا جو جنت البقیع کے نام سے مشہور ہے۔اس میں سب سے پہلے دفن ہونے والے صحابی حضرت عثمان بن المطعون تھے۔اسی سال رسول کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیه ( زوجہ حضرت عثمان ) کی وفات کے بعد آپ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان سے کر دی۔جنگ بدر کے بعد 3ھ میں حضرت عمر کی صاحبزادی حضرت حفصہ کے شوہر بیمار ہو کر فوت ہوئے تو ان کی عدت گزرجانے کے بعد رسول کریم ﷺ نے شعبان میں ان سے نکاح کر کے ایک طرف اپنے مخلص ساتھی حضرت عمر سے ہمدردی اور دوسری طرف بیوگان سے نکاح کی تحریک کے لئے نمونہ قائم فرمایا۔(طبری) 56 جنگ احد 3ھ میں جنگ احد ہوئی۔سرداران قریش نے مقتولین بدر کا بدلہ لینے کے لئے قسمیں کھا رکھی تھیں اور اس کے لئے اپنے تجارتی قافلہ کا منافع وقف کر دیا تھا۔انہوں نے قبائل عرب کا دورہ کر کے انہیں بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا۔جس کے بعد ابوسفیان تین ہزار کا لشکر لے کر تین ہزار اونٹوں اور دوسو گھوڑوں کے ساتھ نکلا۔گیارہ دن کی مسافت کے بعد اس نے مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر احد پہاڑی کے پاس آکر ڈ میرے لگائے۔رسول کریم کفار مکہ کی ان تیاریوں سے باخبر تھے۔آپ نے رویا کی بناء پر صحابہ دشمن سے مقابلہ کے بارہ میں مشورہ کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ اس جنگ میں بعض صحابہ اور آپ کی ذات کو بھی تکلیف پہنچ سکتی ہے۔مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کرنا چاہئے۔لیکن پر جوش نوجوانوں کی کثرت رائے کے مطابق آپ نے آخری فیصلہ باہر نکلنے کا فرمایا۔رسول کریم ﷺ ایک ہزار کا لشکر دو گھوڑے اور ایک سو زرہ پوش لے کر مدینہ سے نکلے۔ایک دن کی مسافت کے بعد عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اس بہانے واپس مدینہ چلا گیا کہ اس کی مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی تجویز قبول نہیں کی گئی۔(ابن ہشام) 57 رسول کریم ﷺ نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے احد کے دامن میں جا کر پڑاؤ کیا۔فوج کی پشت پر موجود ایک پہاڑی درہ سے حملہ کا خطرہ ہو سکتا تھا۔وہاں آپ نے کمال دانش مندی سے حضرت عبداللہ بن جبیر کی سرکردگی میں پچاس تیراندازوں کو مقررفرمایا کہ فتح و شکست کسی صورت میں درہ خالی نہ چھوڑیں۔