اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 354 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 354

اسوہ انسان کامل 354 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اقتداری نشان بھی ہو سکتا ہے جس طرح پانی یا کھانا بڑھنے کے معجزات آپ سے ثابت ہیں۔یا پھر یہ ایک لطیف کشفی نظارہ ہوسکتا ہے۔جس میں تمثیلی زبان میں یہ پیغام تھا کہ اگر خدا چاہے تو اہل مکہ کو اس طرح مجبور کر کے آپ کے آگے جھکا دے جس طرح یہ درخت آپ کے بلانے پر چلا آیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ دین میں جبر وا کراہ روانہیں رکھتا۔البتہ جن طبائع میں نرمی اور لچک ہے وہ ایک دن ضرور آپ کی آواز پر لبیک کہیں گی۔اس نظارے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دلی طور پر ایسی تسلی ہوئی کہ فرمایا بس میرے لئے یہ کافی ہے۔قید و بند کی صعوبتوں پر ثابت قدمی قریش مکہ کی طرف سے مظالم کے تمام حربے آزما لینے کے باوجو درسول اللہ کی استقامت ان کیلئے ایک حیران کن امر تھا۔چنانچہ انہوں نے اجتماعی طور پر رسول اللہ کے قتل کا فیصلہ کیا اور اس سے اختلاف کی صورت میں رسول اللہ کا ساتھ دینے والے آپ کے سارے خاندان کے ساتھ بائیکاٹ طے کیا گیا۔کہ ان کے ساتھ شادی بیاہ،خرید وفروخت اور میل جول سب بند کر دیا جائے۔یہاں تک کہ وہ رسول اللہ کوقتل کرنے کیلئے ان کے حوالے نہ کر دیں۔( ابن سعد ) 27 جب قریش نے دیکھا کہ بنو ہاشم کے تمام لوگ مسلمان اور کا فر رسول اللہ کا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں تو انہوں نے اپنے بازاران پر بند کر دیے۔ادھر ابو طالب اپنے خاندان کے ساتھ شعب ابی طالب میں محصور ہو گئے انہیں غلہ اور کھانے پینے کے سامان کی خرید و فروخت سے کلی طور پر روک دیا گیا۔ہر قسم کا سامان تجارت وہ ان سے پہلے جا کر خرید لیتے مقصد یہ تھا کہ وہ رسول اللہ کو ان کے سپردکردیں ورنہ یہ ان کو فاقوں اور بھوک سے ہلاک کرنے سے بھی دریغ نہ کریں گے۔شعب ابی طالب میں اس تین سالہ محصوری کے زمانہ میں بعض لوگ رقم لے کر غلہ خرید نے بازار جاتے اور کوئی انہیں سودا دینے پر راضی نہ ہوتا اور وہ خالی ہاتھ لوٹ آتے یہاں تک کہ بعض لوگ فاقوں سے وفات پاگئے۔( ابو نعیم ) 28 حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں ایک رات میں پیشاب کرنے کے لئے اٹھا۔پیشاب کے نیچے کسی چیز کی آواز آئی دیکھا تو اونٹ کی خشک کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔جسے اُٹھا کر میں نے دھویا ، اسے جلایا پھر پتھر پر رکھ کر اسے باریک کیا اور پانی کے ساتھ نگل لیا اور تین روز تک اس کھانے پر گزارا کیا۔جب مکہ میں قافلے غلہ لے کر آتے اور کوئی مسلمان غلہ خرید نے جاتا تو ابولہب انہیں کہتا محمد کے ساتھیوں کے لئے قیمت بڑھا دو۔چنانچہ وہ کئی گنا قیمت بڑھا دیتے اور مسلمان خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ان کے بیچے گھروں میں بھوک سے بلک رہے تھے مگر وہ انہیں کوئی کھانے کی چیز مہیا نہ کر پاتے تھے۔اگلے دن ابولہب ان تاجروں سے مہنگے داموں غلہ اور کپڑے خرید لیتا اور یوں مسلمان اس عرصہ میں بھوکے ننگے رہ کر نہایت درد ناک حالت کو پہنچ گئے۔(الروض) 29 حضرت سعد بن ابی وقاص شعب ابی طالب کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ فاقے سے تھے۔رات