اسوہء انسانِ کامل — Page 355
اسوہ انسان کامل 355 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت کے اندھیرے میں اُن کے پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز آئی جسے اُٹھا کر وہ کھا گئے اور انہیں پتہ تک نہ چلا کہ وہ کیا چیز تھی۔(ابن ھشام) 30 علاوہ ازیں مسلمان اس دور میں سخت خطرے کی حالت میں تھے۔رسول کریم اور مسلمانوں کی حفاظت اپنی ذات میں ایک اہم مسئلہ تھا۔مسلسل تین سال تک یہ زمانہ خوف کے سایہ میں بسر ہوا۔ابوطالب ہر شب رسول اللہ کو اپنے سامنے بستر پر سونے کیلئے بلاتے اور سلا دیتے تا کہ اگر کوئی شخص بدارادہ رکھتا ہے یا رات کو چپکے سے حملہ کرنا چاہتا ہے تو وہ آپ کو اس جگہ سوتے دیکھ لے، جب سب لوگ سو جاتے تو ابو طالب اپنے کسی بھائی، بیٹے یا چازاد کو رسول اللہ کی جگہ سونے کا حکم دیتے اور رسول اللہ کی سونے کی جگہ بدل کر کسی اور مخفی جگہ آپ کو سلا دیتے۔حفاظت کا یہ پر حکمت طریق مسلسل جاری رہا۔(زرقانی 31) مگر اس سے اس دور کے حالات کی نزاکت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ڈیون پورٹ رسول اللہ کے استقلال کے بارہ میں لکھتا ہے۔محمد(ﷺ) کو بلاشک وشبہ اپنے مشن کی سچائی پر یقین تھا۔وہ اس پر مطمئن تھے کہ اللہ کے فرستادہ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے ملک کی تعمیر واصلاح کی ہے۔ان کا اپنا مشن نہ تو بے بنیاد تھا اور نہ غریب دہی ، جھوٹ و افترا پر مبنی تھا بلکہ اپنے مشن کی تعلیم و تبلیغ کرنے میں نہ کسی لالچی دھمکی کا اثر قبول کیا اور نہ زخموں اور تکالیف کی شدتیں ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکیں۔وہ سچائی کی تبلیغ مسلسل کرتے رہے۔‘ پورٹ )32 1 2 3 4 LO 5 6 7 8 9 حواله جات بخاری(67) کتاب المغازی باب 14 بخاری (65) کتاب المناقب باب 15 السيرة النبوية لابن هشام جلد 2 ص 296 الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 8 ص 37 مستدرك حاكم جلد4ص52 السيرة النبوية لابن هشام جلد 1 ص342 الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 ص232 مسند احمد جلد 1 ص62 الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 8 ص 265