اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 351 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 351

351 رسول اللہ کا استقلال اور استقامت اسوہ انسان کامل رسول اللہ کو طواف کعبہ سے بھی روکا جاتا تھا۔کبھی بیت اللہ میں داخل ہو کر دورکعت نماز پڑھنا چاہی تو اس سے بھی منع کر دیئے گئے۔عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے کہا کہ قریش نے آنحضرت کو جو سب سے بڑا دکھ پہنچایا اور آپ نے دیکھا ہو وہ سنائیں۔عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ ایک دفعہ خانہ کعبہ میں قریش کے سردار جمع تھے اور میں بھی موجود تھا۔وہ کہنے لگے اس شخص کو جتنا ہم نے برداشت کیا ہے آج تک کسی اور کو نہیں کیا۔اس نے ہمارے عقلمندوں کو بیوقوف کہا، ہمارے باپ دادا کو برا بھلا کہا، ہمارے دین کو خراب قرار دیا، ہماری جمعیت میں تفرقہ ڈال دیا اور ہمارے معبودوں کو گالیاں دیں ، ہم نے اس کی باتوں پر حد درجہ صبر کیا۔ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے آکر حجر اسود کو بوسہ دیا پھر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے۔اس دوران اُن سرداروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دعوے کا ذکر کر کے آپ پر اعتراض کے رنگ میں آنکھ سے اشارہ کیا ، جس کا اثر میں نے آپ کے چہرے پر دیکھا۔پھر جب آپ دوسری دفعہ گزرے تو انھوں نے اسی طرح طعن کیا اور میں نے رسول اللہ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے طواف کے تیسرے چکر میں بھی سردارانِ قریش نے یہی حرکت کی۔آپ نے بڑے جلال سے انھیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت سُن لو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔میں تمھیں ہلاکت کی خبر دیتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ اس بات کا لوگوں پر اتنا اثر ہوا جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔یہاں تک کہ ان میں سے سختی کی تحریک کرنے والا بھی نرمی سے کہنے لگا کہ اے ابو القاسم آپ تشریف لے جائیں۔خدا کی قسم آپ جاہل نہیں ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔اگلے دن سرداران قریش خانہ کعبہ میں پھر جمع ہوئے اور میں ان کے ساتھ تھا۔وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کل جو واقعہ گزرا ہے اس کے جواب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہا اس کے باوجود تم نے اس کو چھوڑ دیا۔ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ تشریف لائے۔سب آپ کی طرف لپکے۔آپ کو گھیر لیا اور کہنے لگے آپ ہمیں یہ یہ کہتے ہو۔ہمارے معبودوں کو اور ہمارے دین کو خراب قرار دیتے ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات کا جواب دیتے جارہے تھے۔اتنے میں ایک شخص نے آپ کی چادر کو پکڑا اور اس کو بل دے کر آپ کا گلا گھونٹے لگا۔حضرت ابوبکر آڑے آئے اور اس شخص کو پیچھے ہٹایا اور روتے ہوئے کہا تم ایک شخص کو اس لئے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔یہ واقعہ سنا کر عبداللہ بن عمرو کہنے لگے یہ ایک سخت ترین اذیت ہے جو میں نے رسول اللہ کو قریش سے پہنچتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔( احمد )21 ایک روز سرداران قریش خانہ کعبہ کے پاس مقام حجر میں جمع ہوئے۔لات و منات اور عزیٰ کی قسمیں کھا کر کہا کہ آج کے بعد اگر ہم نےمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا تو ایک شخص کی طرح سب مل کر حملہ آور ہوں گے اور دم نہ لیں گے جب تک کہ ان کو قتل نہ کر دیں۔حضرت فاطمہ کو پتہ چلا تو آپ روتی ہوئی اپنے بزرگ باپ کے پاس تشریف لائیں۔عرض کیا کہ آپ کی قوم کے