اسوہء انسانِ کامل — Page 316
316 نبی کریم کا انفاق فی سبیل اللہ اور جود و سخا اسوہ انسان کامل بعض روایات میں ہے کہ ورقہ بن نوفل نے بھی پہلی وحی کا حال سن کر یہی گواہی دی تھی۔اس سے خوب اندازہ ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے آپ کن کن راہوں میں خرچ کرتے تھے۔ہجرت کے بعد آپ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آ گئے تھے۔آپ کا کوئی ذاتی ذریعہ آمد نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی جملہ ضروریات معاش کا ذمہ خود اٹھایا ہوا تھا۔جیسے فرمایا کہ تمہارے رزق کا انتظام ہم خود کریں گے۔(سورۃ طہ : 133) مدنی دور اور انفاق فی سبیل اللہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو انصار مدینہ نہایت اخلاص اور ایثار سے ہدایا اور تحائف پیش کرتے رہے۔کسی نے دودھ دینے والے جانور پیش کئے تو بعض نے کھجور کے درخت آپ کے لئے وقف کر دیئے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حسب ضرورت اپنے استعمال میں بھی لاتے اور ضرورت مند صحابہ کی حاجت روائی بھی فرماتے رہے۔بعد میں جب 4 ہجری میں یہود بنی نضیر اپنی بد عہدی کے باعث مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو ان کے کھجوروں کے باغات بطور شمس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف میں آئے۔آپ ان کے پھلوں کو فروخت کر کے اہل خانہ کے سال بھر کے اخراجات خوراک اور غلہ وغیرہ کا انتظام فرما لیتے تھے اور باقی مال جو ضرورت سے زائد ہوتا اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتے تھے۔( بخاری )22 ہر چند کہ شمس یعنی اموال غنیمت کا پانچواں حصہ مکمل طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صوابدیدی اختیار پر تھا کہ اسے جیسے چاہیں دینی مقاصد کے لئے اپنی ذات اور اہل و عیال پر نیز رشتہ داروں، یتامی ، مساکین اور مسافروں پر خرچ کریں۔مگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال احتیاط سے اپنے لئے صرف ضروری سامان معاش پر ہی اکتفا کیا اور جو ضرورت سے بچ جاتا تھا خدا کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے حتی کہ اگلے دن کے لئے بھی بچا کے نہیں رکھتے تھے۔(ترمذی)23 الغرض آپ نے اپنے لئے قناعت کا طریق ہی پسند فرمایا۔اور فراخی کے زمانہ میں جب ازواج مطہرات نے بعض مطالبات کئے تو انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اختیار دیا کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زینت کی خواہاں ہیں اور آپ کی طرح سادگی اور قناعت اختیار نہیں کر سکتیں تو بے شک مال و متاع لے کر آپ سے الگ ہو جائیں اور اگر اللہ اور اس کے رسول کو مقدم رکھنا ہے تو ایسی نیک عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہترین اجر تیار کر رکھا ہے۔(سورۃ الاحزاب : 29) بے شک ازواج النبی نے اپنے مقام کے مطابق اللہ اور اُس کے رسول کو ہی ترجیح دی ،مگر اس تنبیہ سے یہ مقصد کھل کر سامنے گیا کہ اموال کی کثرت کے نتیجہ میں اسراف نہ ہونے پائے۔بعد میں ازواج مطہرات کے معقول وظائف بھی مقرر ہوئے اور انہوں نے بھی اسوۂ رسول کی روشنی میں اپنے اموال بے دریغ خدا کی راہ میں خرچ کئے۔الغرض نبی کریم نے ہر حال عسرویسر میں انفاق فی سبیل اللہ کی تمام مدات میں دل کھول کر خرچ کر کے دکھایا۔