اسوہء انسانِ کامل — Page 289
اسوہ انسان کامل 289 آنحضرت ماه بحیثیت معلم و و مربی اعظم عه ہوئے آیا ہوں۔آپ نے پوچھا آج (نفلی) روزہ کس نے رکھا ہے؟ حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ وہ روزے سے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ سب نیکیاں ایک دن میں جمع کیں اس پر جنت واجب ہوگئی۔حضرت عمر نے یہ سنا تو روح مسابقت نے جوش مارا اور کہنے لگے کہ خوشا نصیب وہ جو جنت کو پاگئے۔تب نبی کریم نے ایک ایسا دعائیہ جملہ ان کے حق میں بھی فرمایا کہ عمر کا دل اس سے راضی ہو گیا۔آپ نے دعا کی، اللہ عمر پر رحم کرے۔اللہ عمر پر رحم کرے۔جب بھی وہ کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے ابوبکر اس سے سبقت لے جاتا ہے۔(بیشمی ) 9 بیعت تو به نبی کریم حسب حکم الہی صحابہ کی تربیت اور روحانی ترقی کی خاطر بیعت کے وقت ان سے نیک باتوں میں اطاعت اور مری باتوں سے بچنے کا عہد لیتے اور پھر اس کی پابندی کرواتے تھے۔حضرت عبادہ بن صامت بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ان باتوں پر بیعت لیتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، چوری نہ کرو گے، زنانہ کرو گے، اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو گے اور ایسے بہتان نہ تراشو گے جو اپنے سامنے گھڑ لو اور معروف باتوں میں نافرمانی نہ کرو گے۔پس جو کوئی تم میں سے اس عہد بیعت کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے پاس ہے۔( بخاری )10 خلوص نیت رسول کریم نے تربیت کے لئے بنیادی سبق خلوص نیت کا دیا اور فرمایا ہے کہ تمام نیک اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہی ہے۔( بخاری 11 ) نیز فرمایا اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کے جسم و مال اور شکل و صورت پر نہیں بلکہ دلوں پر ہوتی ہے اور انسان کے تقویٰ کے مطابق خدا تعالیٰ کا اس سے معاملہ ہوتا ہے۔(مسلم )12 رسول کریم نے اس کی مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک انسان بظاہر لوگوں کی نظر میں نیکی کرتا چلا جاتا ہے مگر وہ دراصل اہل نار میں سے ہوتا ہے۔ایک انسان بدی کر رہا ہوتا ہے مگر وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔( بخاری 13 ) فرمایا وہ کسی موڑ پر اچانک نیکی کی طرف رجوع کرتا اور اہل جنت میں سے قرار پاتا ہے۔اس طرح حسن نیت کے مطابق ہی نیکیاں انجام کو پہنچتی ہیں۔اس لئے انفرادی یا اجتماعی تربیتی کوششوں کے ساتھ دعا بہت ضروری ہے۔نبی کریم اپنے بارہ میں یہ دعا کرتے تھے ”اے اللہ میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا " دل رحمان خدا کی انگلیوں میں ہوتا ہے وہ جب چاہے پلٹ دے۔(ترمذی) 14 رسول کریم حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریف میں مبالغہ نا پسند فرماتے تھے۔ایک دفعہ کسی کی ایسی تعریف سن کر فرمایا کہ تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی کیونکہ ایسی تعریف سے اندیشہ ہوتا ہے کہ انسان کہیں کبر کا شکار نہ ہو جائے۔تاہم حوصلہ افزائی کی خاطر جائز تعریف سے منع بھی نہیں فرمایا۔چنانچہ ہدایت فرمائی کہ کسی کی تعریف کرنی مقصود ہو تو محتاط