اسوہء انسانِ کامل — Page 254
254 اسوہ انسان کامل رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ رہوں گاشی کہ خدا اسے پورا کرے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر فرمار ہے تھے اور آپ کے چہرہ پر سچائی اور نورانیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں تھی اور جب آپ تقریر ختم کر چکے تو آپ یک لخت چل پڑے اور وہاں سے رخصت ہونا چاہا مگر ابو طالب نے پیچھے سے آواز دی۔جب آپ لوٹے تو آپ نے دیکھا کہ ابوطالب کے آنسو جاری تھے۔اُس وقت ابو طالب نے بڑی رقت کی آواز میں آپ سے مخاطب ہو کر کہا۔”اے بھیجے جا اور اپنے کام میں لگارہ جب تک میں زندہ ہوں اور جہاں تک میری طاقت ہے میں تیرا ساتھ دوں گا۔“ ( ابن ہشام ) 19 تکالیف کی انتہاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کی راہ میں بہت دکھ اور اذیتیں اٹھا ئیں۔ایک دفعہ آپ گھر سے نکلے۔راستہ میں جو بھی آپ کو ملا خواہ وہ کوئی آزاد تھایا غلام اس نے آپ کی تکذیب کی اور جھٹلایا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور جو تکلیف آپ کو پہنچی تھی اس کی وجہ سے کمبل اوڑھ کر بیٹھ رہے ( قوم سے نا امید ہوکر سوچتے ہوں گے کیا کریں) کہ وحی الہی ہوئی اسے کمبل اوڑھے ہوئے ! کھڑے ہو جاؤ اور انذار کرتے چلے جاؤ۔(ابن ہشام) 20 ممالک بیرون میں دعوت الی اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ عام کے بعد سے آپ اور آپ کے صحابہ کے خلاف مکہ میں ایک طوفان بدتمیزی بر پا ہو چکا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طور پر ابو طالب کی وجہ سے بھی کسی قدر امن حاصل تھا مگر دیگر عام مسلمانوں کی قبول اسلام کے باعث سخت تکالیف دیکھ کر اور ان کی مدد کی طاقت نہ پا کر نبی کریم سخت مغموم ہوتے تھے۔سوچ بچار کے بعد آپ نے صحابہ کو مشورہ دیا کہ وہ پڑوسی ملک حبشہ جا کر پناہ لیں جہاں عیسائی بادشاہ بہت عادل ہے اور کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا۔چنانچہ مسلمانوں کے مردوزن پر مشتمل دو و فود پہلے بارہ اور پھر اسی اصحاب حبشہ ہجرت کر گئے۔قریش نے وہاں بھی مسلمانوں کا تعاقب جاری رکھا اور نجاشی اور اس کے سرداروں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کا یا۔عادل نجاشی نے اپنے دربار میں مسلمانوں کو بلا کر ان کا موقف سنا۔حضرت جعفر طیار نے مسلمانوں کے نمائندے کے طور پر سورۃ مریم کی تلاوت کر کے اسلام کی تعلیم پیش کی۔بادشاہ پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور وہ بھی بالآخر مسلمان ہو گیا۔( احمد ) 21 مظلومیت کا پھل۔۔۔۔۔حمزة خدا کی راہ میں ان تکالیف اور اذیتوں کے نتیجہ میں شرفاء میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہمدردی اور نرم گوشہ پیدا ہونا ایک طبعی بات تھی۔حضرت حمزہ کا قبول اسلام بھی تو مظلومیت پر صبر کا میٹھا پھل تھا۔واقعہ یوں ہوا کہ ابو جہل کو ہ صفا کے قریب رسول اللہ کے پاس سے گزرا تو آپ کو اذیت پہنچائی گالیاں بکیں ، آپ کے دین پر نا مناسب اور مکروہ حملے کئے اور کمزوری کے طعنے دیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت صبر اور خاموشی سے سنتے