اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 252 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 252

اسوہ انسان کامل 252 رسول اللہ بحیثیت داعی الی اللہ کہہ سکتا کہ وہ کون ہے اور کہاں ہے۔جندب نے جب اسلام کا پیغام سنا تو پچھتر ۷۵ افراد کو لے کر رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب نے اسلام قبول کیا۔(ابن حجر ) 16 خود حضرت طفیل بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے مطابق میں نے اپنے قبیلہ میں جاکر مسلسل دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کیا اور سات سال کے قلیل عرصہ میں میرے ذریعہ دوس کے ستر اسی گھرانے مسلمان ہوکر مدینہ آ بسے۔(ابن سعد ) 17 رؤیا کے ذریعہ قبول حق مخالفت شروع ہونے پر رسول اللہ کی اللہ تعالیٰ کے دربار میں آہ وزاری اور نصرت طلب کرنا طبیعی امر تھا۔آپ دن رات خدا کے حضور اپنی قوم کی ہدایت کی دعائیں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے سعید روحوں کے دلوں میں الہام کر کے آپ کے حق میں تحریک پیدا کی اور انہیں اسلام کی حقانیت کی طرف مائل کیا۔چنانچہ خالد بن سعید کا قبول اسلام اس کی مثال ہے۔جو ایک رؤیا کے ذریعہ اپنے بھائیوں میں سے سب سے پہلے مسلمان ہوئے۔خالد نے خواب میں دیکھا کہ انہیں آگ کے ایک گڑھے کے کنارے کھڑا کیا گیا ہے جو بہت وسیع ہے اور ان کے والد انہیں اس میں دھکا دے کر گرانے کی کوشش کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کمر کے پٹکے سے پکڑ کر پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔وہ اپنے اس خواب سے بہت ڈر گئے اور کہنے لگے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بچی خواب ہے۔وہ حضرت ابو بکر سے ملے تو ان سے اس خواب کا ذکر کیا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ تو بہت نیک اور مبارک خواب ہے۔تعبیر یہ ہے کہ تم رسول اللہ کی پیروی کرتے ہوئے اسلام قبول کر لو گے، تمہاری خواب سے لگتا ہے کہ تم ضرور ایسا کروگے۔اسلام تمہیں آگ کے گڑھے سے بچالے گا مگر تمہارا باپ اس گڑھے میں جا پڑے گا۔پھر خالد اجیاد مقام پر نبی کر یم کے سے ملے اور آپ سے پوچھا کہ آپ کس بات کی طرف بلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں اللہ کی توحید کی طرف بلاتا ہوں کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور حمد اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔نیز یہ کہ م پتھر کے بتوں کی پرستش سے باز آؤ جو سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں، نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع ، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون ان کی پرستش کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟ خالد یہ سن کر کہنے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔اس پر رسول اللہ کو بہت خوشی ہوئی۔خالد اس کے بعد اپنے عزیز واقارب سے روپوش ہو گئے۔ان کے والد کو ان کے قبول اسلام کا پتہ چلا تو بعض لوگوں کو ان کی تلاش میں بھیجا جو انہیں پکڑ کر باپ کے پاس لے آئے۔باپ نے پہلے تو ڈانٹاڈ ٹا، پھر ایک سونٹے سے اتنا مارا کہ سوٹاٹوٹ گیا مگر خالد کی استقامت میں فرق نہ آیا۔تب والد نے خدا کی قسم کھا کر کہا میں تمہارا نان و نفقہ بند کر دوں گا۔خالد نے کہا بے شک آپ جو چاہیں کریں میرا اللہ مجھے رزق دے گا۔بالآخر خالد رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے بچے غلاموں میں شامل ہو گئے۔(احمد )18