اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 229 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 229

اسوہ انسان کامل 229 آنحضرت کی صحابہ سے محبت اور صحابہ کا عشق رسول مصعب کا جواب بھی کیسا خوبصورت تھا کہ اے میری ماں! میں مکہ میں نبی کریم سے پہلے کسی کو ملنا گوارا نہیں کرسکتا۔( ابن سعد ) 23 اُحد کے میدان میں مصعب نے جان کی قربانی دیکر اپنے عشق رسول پر مہر ثبت کر دی۔مصعب اسلامی جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔رسول اللہ اللہ جب ان کی نعش کے پاس پہنچے تو وہ چہرے کے بل گرے پڑے تھے۔گو یا دم واپسیں بھی اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی اور سجدہ ریز حضور نے ان کی نعش کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا يَدَّلُوا تَبْدِيلا ( سورة الاحزاب :24) یعنی ان مومنوں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا۔( لڑتے لڑتے مارے گئے ) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ا بھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔اس کے بعد نبی کریم میں نے اپنے اس عاشق صادق کو مخاطب کر کے فرمایا اے مصعب ا خدا کا رسول تم پر گواہ ہے کہ واقعی تم اس آیت کے مصداق اور اُن مردانِ وفا میں سے ہو جنہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے۔روز قیامت تم دوسروں پر گواہ بنائے جاؤ گے۔پھر آپ نے اسلامی جھنڈے کے محافظ حضرت مصعب کو اس آخری ملاقات میں ایک اور اعزاز بھی بخشا۔آپ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے میرے صحابہ مصعب کی نعش کے پاس آکر اس کی زیارت کر لو اور اس پر سلام بھیجو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔“ ( ابن اثیر 24 حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ ان کے چچا انس بن نضر بدر میں شامل نہیں تھے۔اسلام کی پہلی جنگ سے غیر حاضری کی وجہ سے اُن کو بے حد افسوس تھا۔انہوں نے رسول اللہ کے سامنے عہد کیا کہ اگر آئندہ اللہ تعالیٰ نے حضور کے ساتھ کسی غزوہ میں شامل ہونے کا موقع دیا تو اللہ دیکھے گا میں کیا کر دکھاتا ہوں۔چنانچہ اُحد کے دن وہ خوب لڑے مگر جب دڑہ چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو فتح کے بعد پسپائی ہوئی تو انہوں نے جوش غیرت میں کہا اے اللہ! ان مسلمانوں میں سے جو دڑہ چھوڑ گئے اس کے لئے میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور مشرکوں کے فعل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔پھر وہ تلوار لے کر آگے بڑھے۔راستے میں سعد بن معاذ ” ملے تو اُن سے کہنے لگے اے سعد! کہاں جاتے ہو؟ مجھے تو اُحد کے ورے جنت کی خوشبو آرہی ہے۔چنانچہ میدان اُحد میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے مگر ایسی بے جگری اور بہادری سے لڑے کہ جسم پر اسی سے اوپر تلواروں ، نیزوں اور تیروں کے زخم تھے جن کی وجہ سے نعش پہچانی نہ جاتی تھی۔ان کی بہن نے آکر انگلی کے پورے پر ایک نشان سے ان کی لاش پہچانی۔( بخاری )25 ایک اور عاشق صادق انصاری سردار سعد بن ربیع تھے۔میدان اُحد میں ستر مسلمان شہداء کی لاشوں کے پشتے لگے پڑے تھے۔اور رسول اللہ کو اپنے وفا شعار غلام یاد آرہے تھے۔اچانک آپ فرمانے لگے ” کوئی ہے جو جا کر دیکھے کہ انصاری سردار سعد بن ربیع پر کیا گزری۔میں نے اُسے لڑائی کے دوران بے شمار نیزوں کی زد میں گھرے ہوئے دیکھا