اسوہء انسانِ کامل — Page 212
اسوہ انسان کامل 212 33 رسول کریم کی ہمدردی خلق رسول کریم ﷺ اپنے بیمار صحابہ کی خود عیادت فرماتے تھے اور ان کے لئے دعا کے علاوہ بسا اوقات مناسب دوا بھی تجویز فرماتے تھے۔(ابن ماجہ )32 آپ فرماتے تھے کہ ہر بیماری کی دوا ہوتی ہے۔آپ بعض بیماریوں کا علاج روحانی دعا وغیرہ سے فرماتے تھے۔ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نے ظہر کی نماز پڑھائی اور میری طرف توجہ فرمائی تو فرمایا کہ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے؟ عرض کیا جی ہاں۔فرمایا نماز پڑھو۔اس میں شفاء ہے۔(ابن ماجہ ) 3 اسی طرح رسول کریم دم اور دعا سے بھی علاج فرماتے تھے۔اپنی بیماری کے دنوں میں قرآن کی آخری دوسورتیں (معوذتین ) پڑھتے تھے۔اس طرح فاتحہ کی دعا سے بھی بسا اوقات علاج فرمایا۔( بخاری ) 34 رسول کریم ﷺ خدمت خلق کے کاموں میں اپنے اصحاب کا جائزہ لیتے رہتے تھے تاکہ اُن میں یہ جذبہ بڑھے۔ایک روز آپ نے صحابہ سے پوچھا آج تم میں سے کسی نے روزہ رکھا۔حضرت ابوبکر نے اثبات میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا آج تم میں سے مریض کی عیادت کس نے کی؟ حضرت ابو بکڑ نے عرض کیا جی۔آپ نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کے جنازہ میں کسی نے شرکت کی؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ مجھے تو فیق ملی۔رسول کریم نے پوچھا آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا انہیں یہ سعادت بھی ملی۔رسول کریم نے فرمایا یہ سب باتیں جس نے ایک دن میں جمع کر لیں وہ جنت میں داخل ہوا۔“ ( مسلم ) 35 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم کسی مریض کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے " أَذْهِبِ البَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اِشفِ وَأَنْتَ الشَّافِيِّ لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُكَ ، شِفَاءً كَامِلًا لَا يُغَادِرُ سَقَمًا - ترجمہ: اے لوگوں کے رب! بیماری دور فرما دے۔تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے۔شفاء دے دے تیری شفاء کےسوا کوئی شفا نہیں۔ایسی شفاء عطا کر جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔( بخاری )36 حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا کوئی بھی مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے( جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو ) وہ سات مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے شفا دے دے گا۔أَسْأَلُ اللهَ العَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ۔(ابوداؤد 37) سب سے بڑا اللہ ہے دعا کرتا ہوں جو عظیم عرش کا رب ہے کہ وہ آپ کو شفاء عطا کرے۔رسول کریم اپنے صحابہ کو بھی تلقین فرماتے تھے کہ بیمار کی عیادت کو جایا کرو یہ ایک مسلمان بھائی کا حق ہے۔آپ نے انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ یا حضرت سعد بن ابی وقاص جیسے بزرگ صحابہ کی ہی عیادت نہیں فرمائی بلکہ نوجوانوں ، بچوں ، بدوؤں کی عیادت کیلئے بھی بنفس نفیس تشریف لے جاتے رہے۔چچا ابوطالب اور اپنے یہودی غلام