اسوہء انسانِ کامل — Page 186
اسوۃ انسان کامل 186 آنحضرت کا حسن معاملہ اور بہترین اسلوب تجارت که امانت دار سچا مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔نیز فرمایا امانت دار سچا تاجر نبیوں صد یقوں اور شہیدوں میں سے ہے۔(ابن ماجہ ) 15 حضرت رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم کے ساتھ نکلے۔لوگ صبح صبح خرید و فروخت کر رہے تھے آپ نے فرمایا اے تاجروں کی جماعت ! قیامت کے دن بعض تاجر فاجر ہونے کی حالت میں اٹھائے جائیں گے سوائے ایسے کے تاجر جو اللہ سے ڈرے اور احسان اور سچائی سے کام لے۔(ابن ماجہ ) 16 رسول کریم ﷺ اپنے اصحاب کو ہمیشہ ایسی دیانتدارانہ تجارت کی ترغیب دیتے تھے۔حضرت صفوان بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی ایک مجلس میں حضرت عرفطہ بن نہیک تمیمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اور میرے اہل بیت شکار پر گزارا کرتے ہیں۔یہی ہماری بابرکت قسمت بھی ہے اور ضرورت بھی۔مگر اس کے نتیجہ میں ہم اکثر باجماعت نماز ادا کرنے سے محروم رہتے ہیں کیا آپ اسے جائز قرار دیتے ہیں یا نا جائز ؟۔۔۔حضور ﷺ نے فرمایا میں اسے حلال ہی کہتا ہوں کیونکہ اللہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور یہ بہت اچھا کام ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کے عذر کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے، مجھ سے پہلے سارے رسول شکار ہی کرتے تھے اور شکار کی تلاش میں رہتے تھے۔اور جب تم تلاش معاش کے باعث با جماعت نماز ادانته کرسکو تو با جماعت نماز اور اس کی ادائیگی کرنے والوں سے تمہاری محبت بھی کافی ہوسکتی ہے۔اور ذکر الہی اور اللہ کو یاد کرنے والوں سے تمہاری محبت تمہارے اور اہل وعیال کے لئے شکار کے جواز میں وسعت پیدا کرتی ہے کیونکہ تلاش معاش بھی اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔اور یا درکھو کہ عمدہ ( دیانت دارانہ ) تجارت میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔(بیشمی ) 17 تجارت کا بابرکت پیشہ رسول اللہ صحابہ کوتجارت کے ذریعہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دیتے اور ابتدائی پونچی کا انتظام کر کے تجارت کے طریق بھی سکھاتے تھے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ انصار مدینہ میں سے ایک شخص نے تبی کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ مجھے کچھ عطا فرمائیں۔آپ نے فرمایا: تمہارے گھر میں کچھ ہے؟ عرض کیا: ایک ٹاٹ ہے جو کچھ بچھالیتے ہیں اور کچھ اوڑھ لیتے ہیں اور پانی پینے کا پیالہ ہے۔فرمایا وہ دونوں لے آؤ۔وہ انصاری دونوں چیزیں لے کر آئے۔رسول اللہ نے دونوں چیزیں اپنے ہاتھوں میں لے کر فر مایا: یہ چیزیں کون خریدے گا ؟ ایک صحابی نے عرض کیا کہ میں دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں آپ نے دو تین مرتبہ فرمایا کہ ایک درہم سے زائد میں کون لے گا؟ ایک دوسرے صحابی نے عرض کیا میں دو درہم میں لیتا ہوں۔آپ نے دو درہم انصاری کو دیئے اور فرمایا: ایک درہم سے کھانا خرید کر گھر میں دو اور دوسرے سے کلہاڑی کا پھل خرید کر میرے پاس لے آؤ اس نے ایسا ہی کیا۔رسول اللہ نے کلہاڑی کا پھل لیا اور اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ ٹھونک کر فرمایا: جاؤ لکڑیاں اکٹھی کرو اور پندرہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں وہ لکڑیاں کاٹ کر بیچتا رہا۔پھر جب وہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم تھے آپ نے