اسوہء انسانِ کامل — Page 163
اسوہ انسان کامل 163 مخبر صادق کے رؤیا وکشوف اور پیشگوئیاں میرے پاس آیا اور کہا کہ اسے میرے پاس فروخت کر دو میں نے کہا میں دس سو درہم سے کم نہیں لونگا۔اس نے فوراً مجھے ایک ہزار درہم دیئے اور میں نے شیماء اس کے حوالے کر دی۔مجھے لوگ کہنے لگے اگر تم دس ہزار درہم بھی کہتے تو وہ ادا کر دیتا۔یہ تم نے ایک ہزار مانگ کر کیا کیا؟ میں نے کہا دس سو سے زیادہ مجھے بھی گنتی نہیں آتی تھی۔(ابو نعیم )19 فاقہ کش ابو ہریرۃ جنہوں نے ان رؤیا کی تعبیر اپنی آنکھوں سے پوری ہوتے دیکھی ، وہ یہ فتوحات دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ ” مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں یہاں تک کہ میں نے اپنے ہاتھوں میں رکھیں۔پھر کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو وفات پاگئے۔اب تم ان خزانوں کو حاصل کر رہے ہو۔( بخاری ) 20 پس رسول اللہ کے رویا ، کشوف اور پیشگوئیاں مختلف رنگوں میں الہی منشاء اور حکمت کے مطابق بہر حال پوری ہوئیں اور آج ہمارے لئے از دیا ایمان کا موجب بن کر ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ اسلام کی نشارِ ثانیہ کے وہ وعدے بھی ضرور بالضرور پورے ہونگے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم سے کئے گئے۔چنانچہ آخری زمانہ کے بعض خوش قسمت گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ فرمایا ہے ایک وہ جو ہندوستان سے جہاد کرے گا اور دوسری وہ جماعت جو عیسی بن مریم علیھم السلام کے ساتھ ہوگی۔(نسائی ) 21 اس پیشگوئی کا پہلا حصہ بڑی شان کے ساتھ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت پورا ہوا جب محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ کی فتح سے ہندوستان کی فتوحات کا آغاز ہوا۔اور انہوں نے سندھ کے باسیوں کو وہاں کے ظالم حکمرانوں سے نجات دلا کر عدل وانصاف کی حکومت قائم کی اور اپنے اعلیٰ کردار اور پاکیزہ اقدار سے اہل سندھ کو اپنا گرویدہ کر لیا۔یوں یہاں اسلام کا آغاز ہوا۔پیشگوئی کے دوسرے حصے کا تعلق اس آخری زمانہ سے ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ کر دکھایا، یہاں تک کہ اُس کے مشرقی کنارے بھی اور مغربی کنارے بھی میرے سامنے تھے۔اور مجھے کہا گیا تھا کہ میری اُمت کی حکومت زمین کے اُن تمام کناروں تک پہنچے گی جو مجھے سمیٹ کر دکھائے گئے اور مجھے دو خزانے دیئے گئے ایک سرخ خزانہ ( یعنی سونے کا ) اور ایک سفید خزانہ ( یعنی چاندی کا)‘ (مسلم )22 اسلام کے اس آخری عظیم الشان غلبہ کے بارہ میں آپ نے فرمایا کہ اللہ تعلی کوئی کچا یا پکا گھر نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اسلام کو داخل کر دے گا۔ان الہی وعدوں پر ہر مومن کو یقین اور ایمان ہونا چاہیے کیونکہ جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے