اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 132 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 132

اسوہ انسان کامل 132 رسول اللہ کی قبولیت دعا کے راز لگادئے جو آپ کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سے خون بہنے لگا )۔تب میں افسردہ ہو کر وہاں سے لوٹا۔اس موقع پر ہمارے آقا و مولیٰ نے دردوکرب میں ڈوبی ہوئی دعا کی اس سے آپ کی اس جسمانی تکلیف اور اذیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو اس موقع پر آپ نے برداشت کی۔دعا سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ مکہ اور طائف والوں کے انکار اور ظلم کے مقابل پر اپنی بے بسی اور بے کسی کا عالم دیکھ کر اس اولوالعزم رسول سید المعصومین کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا۔آپ نے اپنے مولیٰ کی غیرت کو یوں جوش دلایا کہ:۔”اے خداوند ! میں اپنے ضعف و ناتوانی، مصیبت اور پریشانی کا حال تیرے سوا کس سے کہوں؟ مجھ میں صبر کی طاقت اب تھوڑی رہ گئی ہے۔مجھے اپنی مشکل حل کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آتی۔میں سب لوگوں میں ذلیل ورسوا ہو گیا ہوں۔تیرا نام ارحم الراحمین ہے تو رحم فرما ! کیا تو مجھے دشمن کے حوالے کر دے گا جو مجھے تباہ و برباد کر دے۔خیر ! جو چاہے کر پر تو مجھ سے ناراض نہ ہونا۔بس پھر مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے۔(طبرانی) 31 پھر جب آپ قرن العالب مقام پر پہنچے تو کچھ اوسان بحال ہوئے۔آسمان کی طرف نگاہ کی تو جبریل کی آواز آئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا جواب بھیجا ہے۔تب ملک الجبال نے آپ کو سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ! آپ کیا چاہتے ہیں؟ اگر آپ چاہیں تو ان دو پہاڑوں کو اس وادی پر گرا کر تباہ کر دوں۔اپنے جانی دشمنوں کی ہلاکت کے جملہ اسباب جمع ہو جانے پر بھی آپ نے ان کی تباہی نہیں چاہی۔آپ نے جواب دیا کہ نہیں ایسا مت کرو۔میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد لاشریک کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔( بخاری )32 صرف یہی نہیں کہ آپ نے اپنی قوم کی ہلاکت نہیں چاہی بلکہ نہایت درد کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعا کی۔اللهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت نصیب کر کہ یہ نادان ہیں۔( خضری ) 33 بے کسی اور بے بسی کے زمانے کا یہ عجیب اور حیرت انگیز ماجرا ہے کہ وہ قوم جس سے ہمارے آقا و مولیٰ کوزندگی کا سب سے بڑا دکھ پہنچتا ہے۔اُن کے لئے بھی آپ کے دل کی گہرائیوں سے رحمت و ہدایت کی دعا کے سوا کچھ نہیں نکلتا پھر جب مکہ فتح ہوتا ہے اور آپ کو اتنی طاقت حاصل ہوتی ہے کہ چاہیں تو طائف کی اینٹ سے اینٹ بجادیں اس وقت بھی آپ اہل طائف کے لئے اپنے مولیٰ سے رحمت کی بھیک مانگتے ہی نظر آتے ہیں۔اسلامی لشکر جب طائف کا رخ کرتا ہے تو اہل طائف محصور ہو کر مقابلہ کی ٹھان لیتے ہیں اور قلعہ بند ہو کر کھلے میدان میں پڑے مسلمان محاصرین پر خوب تیر اندازی کرتے ہیں تب صحابہ سے رہا نہیں جاتا اور وہ رسول اللہ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ ثقیف قبیلہ کے تیروں کی بارش نے ہمیں بھون کر رکھ دیا ہے آپ ان ظالموں کے خلاف کوئی بد دعا کریں۔ایک ظالم قوم کا مسلسل ظلم اور انکار دیکھ کر اور طاقت پا کر بھی ہمارے آقا ومولیٰ کی رحمت ودعا پھر جوش میں ہے آپ جوا با فرماتے ہیں !