اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 90 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 90

اسوہ انسان کامل 90 حق بندگی ادا کرنے والا۔۔۔۔عبد کامل طویل قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔آپ سے عرض کی گئی کہ اس قدر مشقت کیوں کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ کی بخشش کا اعلان فرما کر آپ کو معصوم و بے گناہ قرار دے چکا ہے تو آپ نے فرمایا اے عائشہ! کیا میں اس نعمت پر ) عبادت گزار اور شکر گزار انسان نہ بنوں؟ ( بخاری ) 46 عبادت الہی کی خاطر آرام طلبی ہرگز پسند نہ تھی۔ایک رات حضرت حفصہ نے آنحضرت کے بستر کی چار نہیں کردیں صبح آپ نے فرمایا ” رات تم نے کیا بچھایا تھا۔اسے اکہرا کردو اس نے مجھے نماز سے روک دیا ہے۔“ (ترمذی) 47 قرآن کی تلاوت اور ذکر الہی بھی ایک عبادت ہے۔نبی کریم کو تلاوت کلام پاک سے بھی خاص شغف تھا۔روزانہ سورتوں کی مقررہ تعداد عشاء کے وقت تلاوت فرماتے ، پچھلی رات بیدار ہوتے تو کلام الہی زبان پر جاری ہوتا۔(عموماً آل عمران کا آخری رکوع تلاوت فرمایا کرتے ) رات کے وقت نماز میں نہایت وجد اور ذوق و شوق سے ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کبھی پوری رات آپ قیام فرماتے۔سورہ بقرہ ، آل عمران اور سورہ نساء تلاوت کرتے۔جب کوئی عذاب کی آیت آئی تو خدا سے پناہ طلب کرتے اور جب کوئی رحمت کی آیت آتی تو اس کے لئے دعا کرتے۔“ ( نسائی) 48 مزید تفصیل ملاحظہ ہوز بر عنوان قرآن کریم سے عشق اور حمد و شکر و ذکر الہی۔روزہ کی عبادت روزے رکھنا سنت انبیاء ہے۔نبی کریم بھی روزہ کی عبادت کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔نبوت سے قبل عربوں کے دستور کے مطابق دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے۔نبوت کے بعد بھی مکہ میں آپ کئی مہینوں تک یہ روزہ رکھتے رہے۔مدینہ آ کر بھی روزہ رکھا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہوئے۔رمضان کے علاوہ مدینہ میں آپ شعبان کا اکثر مہینہ روزے رکھتے تھے۔( بخاری 49 سال کے باقی مہینوں میں یہ کیفیت رہتی کہ روزہ رکھنے پر آتے تو معلوم ہوتا کہ آپ کبھی روزہ نہ چھوڑیں گے۔پھر روزے رکھنے چھوڑ دیتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ پھر نہیں رکھیں گے۔( بخاری ) 50 ایام بیض یعنی چاند کی تیرہ، چودہ پندرہ تاریخ کا روزہ بھی نہیں چھوڑتے تھے۔(نسائی ) 51 مہینہ کے نصف اول میں اکثر روزے رکھتے اور مہینہ میں تین دن معمولاً روزہ رکھتے۔بالعموم مہینہ کے پہلے سوموار اوراگلے دونوں جمعرات کے دن۔( مسلم )52 آپ فرمایا کرتے تھے کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال ( خدا کے حضور پیش ہوتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرے عمل اس حالت میں پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔(ترمذی) 53