اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 52

ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر بھی توہین آمیز حملے کرنے کا موقع ملتا ہے۔پس ہر احمدی کو آجکل دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ عالم اسلام اپنی ہی غلطیوں کی وجہ سے انتہائی خوفناک حالت سے دوچار ہے۔اگر ہمارے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا عشق اور محبت ہے تو ہمیں امت کے لئے بھی بہت زیادہ دعائیں کرنی چاہئیں۔اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ہم پہلے بھی کر رہے ہیں۔دعا کرنے اور برکات حاصل کرنے کا اصل طریق لیکن آج میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ دعائیں ہمیں کس طرح کرنی چاہئیں۔یہ دعا کرنے کے طریقے اور اسلوب بھی ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سکھائے ہیں جن سے ہماری بھی اصلاح ہوتی ہے اور دعا کی قبولیت کے نظارے بھی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہر جاتی ہے اور جب تک تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے اس میں سے کوئی حصہ بھی ( خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کے لئے ) او پر نہیں جاتا۔صر (ترمذى كتاب الصلوة باب ما جاء في فضل الصلوة على النبي علي الله) یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں ہمیں واضح فرمایا ہے۔جو آیت میں نے ابھی پڑھی ہے کہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ - يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِمُوْا تَسْلِيمًا (سورة الاحزاب: آيت 57) کہ یقینا اللہ اور اس کے فرشتے بھی نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو۔52