اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 96

ہیں۔لیکن نہیں ، آپ نے اس طرح نہیں فرمایا۔یہاں کہا جاسکتا ہے کہ ابھی مسلمانوں میں پوری طاقت نہیں تھی ، کمزوری تھی ، اس لئے شاید جنگ سے بچنے کیلئے یہ احسان کی کوشش کی ہے۔حالانکہ یہ غلط بات ہے۔مسلمانوں کے بچے بچے کو یہ پتہ تھا کہ کفار مکہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور مسلمان کی شکل دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔اس لئے یہ خوش فہمی کسی کو نہیں تھی اور آنحضرت ﷺ کو تو اس قسم کی خوش فہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ نے تو یہ سب کچھ ، یہ شفقت کا سلوک سراپا رحمت ہونے اور انسانی قدروں کی پاسداری کی وجہ سے کیا تھا۔کیونکہ آپ نے ہی ان قدروں کی پہچان کی تعلیم دینی تھی۔پھر اس دشمن اسلام کا واقعہ دیکھیں جس کے قتل کا حکم جاری ہو چکا تھا۔لیکن آپ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت آپ نے عطا فرمائی۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ : ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ علیم اللہ سے جنگیں کرتا رہا۔فتح مکہ کے موقع پر بھی رسول کریم صلی اللہ کے اعلان عفو اور امان کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر ایک دستے پر حملہ آور ہوا اور حرم میں خونریزی کا باعث بنا۔اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے ہی وہ واجب القتل ٹھہرایا گیا تھا۔لیکن مسلمانوں کے سامنے اس وقت کوئی نہیں ٹھہر سکا تھا۔اس لئے فتح مکہ کے بعد جان بچانے کیلئے وہ یمن کی طرف بھاگ گیا۔اس کی بیوی رسول اللہ علیم اللہ سے اس کی معافی کی طالب ہوئی تو آپ نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے اسے معاف فرما دیا۔اور پھر جب وہ اپنے خاوند کو لینے کیلئے خود گئی تو عکرمہ کو اس معافی پر یقین نہیں آتا تھا کہ میں نے اتنے ظلم کئے ہوئے ہیں، اتنے مسلمان قتل کئے ہوئے ہیں، آخری دن تک میں لڑائی کرتا رہا تو مجھے کس طرح معاف کیا جا سکتا ہے۔بہر حال وہ کسی طرح یقین دلا کر اپنے خاوند عکرمہ کو واپس لے آئی۔چنانچہ جب عکرمہ واپس آئے تو آنحضرت علی الی اللہ 96