اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 83

امی ، صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔(آئینه کمالات اسلام روحانی خزائن۔جلد 5۔صفحہ 160-162) پس یہ لوگ جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق سمجھتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ ہم نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے بالا سمجھتے ہیں۔یہ بتائیں، ان کے تو مقصد ہی صرف یہ ہیں کہ ذاتی مفاد حاصل کئے جائیں ان کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔یہ اپنے علماء میں سے کسی ایک کے منہ سے بھی اس شان کیا، اس شان کے لاکھویں حصہ کے برابر بھی کوئی الفاظ ادا کئے ہوئے دکھا سکیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں۔یہ اس عاشق صادق کے الفاظ ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکت کے بارے میں جسے تم لوگ جھوٹا کہتے ہو۔اس شخص کی تو ہر حرکت وسکون اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تھا۔یہ گہرائی، یہ نہم ، یا ادراک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا کبھی کہیں اپنے لٹریچر میں تو دکھاؤ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور جماعت کی ہمیشہ یہی تعلیم ہے اور اس پر چلتی ہے کہ ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے برداشت کر لیتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ : ” ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔مگر جولوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو برے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر نا پاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔خدا ہمیں اسلام 83