اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 74
نہیں ( امام صاحب کا انٹرویو تھا نا) کہ امام کو ان کارٹونوں سے تکلیف نہیں پہنچی بلکہ ان کا دل کارٹونوں کے زخم سے چُور ہے۔بلکہ اس تکلیف نے انہیں اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان کارٹونوں کے بارے میں ایک مضمون لکھیں چنانچہ انہوں نے وہ مضمون لکھا اور وہاں ڈنمارک کے اخبار میں شائع ہوا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق ہی ہے جس نے جماعت میں بھی اس محبت کی اس قدر آگ لگا دی ہے کہ یورپ میں عیسائیت سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں آنے والے یوروپین باشندے بھی اس عشق و محبت سے سرشار ہیں۔چنانچہ ڈنمارک کے ہمارے ایک احمدی مسلمان عبد السلام میڈسن صاحب کا انٹرویو بھی اخبارVenster Bladet نے 16 فروری 2006ء کو شائع کیا ہے۔ایک لمبا انٹرویو ہے۔اس کا کچھ حصہ میں آپ کو سناتا ہوں۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ میڈسن صاحب نے مزید کہا کہ ڈنمارک کے وزیر اعظم کو مسلمان ممالک کے سفیروں سے بات کرنی چاہئے تھی کیونکہ لوگ ان خاکوں کو دیکھ کر غصہ میں آتے ہیں۔اگر وزیر اعظم نے مسلمان ممالک کے سفیروں سے بات کی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ مسئلہ کس قدرا ہم تھا اور اس کے کیا نتائج پیدا ہو سکتے تھے۔اور یہ جور د عمل سامنے آیا ہے یہ بالکل وہی ہے جو میں ان خاکوں کی اشاعت پر محسوس کر رہا تھا کہ رد عمل ہوگا۔کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مسلمان کے لئے زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں مثال ہیں۔جب ایسی ذات پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو یہ ہر ایک مسلمان کے لئے تکلیف دہ امر ہے۔اور وہ اس پر دکھ محسوس کرتا ہے۔عبدالسلام میڈسن صاحب یہ کہتے ہیں کہ یولنڈ پوسٹن جو وہاں کا اخبار تھا اس کو ان 74