اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 119

اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 48

مغربی ممالک اور اخبارات کا دوہرا معیار گذشتہ دنوں ایران کے ایک اخبار نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرکت کا بدلہ لینے کے لئے اپنے اخبار میں مقابلے کروائے گا جس میں دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے ساتھ جو سلوک ہوا تھا اس سلوک کے حوالے سے، ان کے کارٹون بنانے کا مقابلہ ہوگا۔گو یہ اسلامی رد عمل نہیں ہے، یہ طریق اسلامی نہیں ہے لیکن مغربی ممالک جو آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں اور ہرقسم کی بیہودگی کو اخبار میں چھاپنے کو آزادی صحافت کا نام دیتے ہیں ان کو اس پر برانہیں منانا چاہئے ، جو منایا گیا۔یا تو برا نہ مناتے یا پھر یہ جواب دیتے کہ جس غلطی سے دنیا میں فساد پیدا ہو گیا ہے ہمیں چاہئے کہ اب کسی مذہب یا اس کے بانی اور نبی یا کسی قوم کے بارے میں ایسی سوچ کو ختم کر کے پیار اور محبت کی فضا پیدا کریں۔لیکن اس طرح کے جواب کی بجائے ڈنمارک کے اس اخبار کے ایڈیٹر نے جس میں یہ کارٹون شائع ہونے پر دنیا میں سارا فساد شروع ہوا ہے، اس نے ایران کے اس اعلان پر یہ کہا ہے کہ وہاں جو اخبار میں کارٹون بنانے کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا گیا ہے یعنی جنگ عظیم دوم میں یہودیوں سے متعلقہ جو بھی کارٹون بننے تھے وہ ایک قوم پر ظلم ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کارٹون بننے تھے۔کسی نبی کی ہتک یا تو ہین کے بارے میں نہیں بنے تھے۔تو بہر حال ایڈیٹر صاحب لکھتے ہیں کہ ہم اس میں قطعاً حصہ نہیں لیں گے۔اور اپنے قارئین کی تسلی کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے قاری تسلی رکھیں کہ ہمارے اخلاقی معیار ابھی تک قائم ہیں۔ہم ایسے نہیں کہ حضرت عیسی کے یا ہالوکاسٹ کے کارٹون شائع کریں۔اس لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی بھی حالت میں ایرانی اخبار اور میڈیا کے اس بد ذوق قسم کے مقابلے میں حصہ لیں۔تو یہ ہیں ان کے معیار، جو اپنے لئے اور ہیں اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے اور ہیں۔بہر حال یہ اُن کے کام ہیں ، کئے جائیں۔48