اسوۂ رسولﷺ اور خاکوں کی حقیقت — Page 41
ہے“۔( یعنی جو بچے ہوں اس کی دعا جھوٹے کے مقابل پر قبول ہو جایا کرتی ہے۔”لیکن آپ یقینا سمجھیں کہ یہ دعا ہر گز قبول نہیں ہوگی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں۔مسیح تو آپکا لیکن آپ نے اس کو شناخت نہیں کیا۔اب یہ امید موہوم آپ کی ہرگز پوری نہیں ہو گی۔یہ زمانہ گزر جائے گا اور کوئی ان میں سے میسیج کو اترتے نہیں دیکھے گا“۔(ازالہ اوہام حصه اول روحانی خزائن جلد 3صفحه 179) پھر آپ نے فرمایا: ” اسی لئے میں کہتا ہوں کہ یہ لوگ دین اور سچائی کے دشمن ہیں۔اور اگر اب بھی ان لوگوں کی کوئی جماعت دلوں کو درست کر کے میرے پاس آوے تو میں اب بھی اس بات کے لئے حاضر ہوں کہ ان کے لغو اور بیہودہ شبہات کا جواب دوں اور ان کو دکھلاؤں کہ کس قدر خدا نے ایک فوج کثیر کی طرح میری شہادت میں پیشگوئیاں مہیا کر رکھی ہیں جو ایسے طور سے ان کی سچائی ظاہر ہوئی ہے جیسا کہ دن چڑھ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مسیح موعود کی محبت دلوں میں بٹھائے گا اور سب فرقوں پر آپکے فرقہ کو غالب کریگا اب جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا اگر کوئی آنا چاہے تو سوسال کے بعد آج بھی دلوں کو درست کر کے آنے والی شرط قائم ہے۔اور جو آتے ہیں وہ حق کو پا بھی لیتے ہیں۔فرمایا کہ: ” یہ نادان مولوی اگر اپنی آنکھیں دیدہ و دانستہ بند کرتے ہیں تو کریں۔سچائی کو ان سے کیا نقصان؟ لیکن وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ بہتیرے فرعون طبع ان پیشگوئیوں پر غور کرنے سے غرق ہونے سے بچ جائیں گے۔خدا فرماتا ہے کہ میں حملہ پر حملہ کروں گا یہاں تک کہ میں تیری سچائی دلوں میں بٹھا دوں گا۔پس اے مولو یو ! اگر تمہیں خدا 41